سندھ طاس معاہدہ معطل، آگے کیا ہوگا؟

فہرستِ مضامین

اسلام آباد: چھ دہائیوں سے زائد عرصے تک پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کا ضامن رہنے والا سندھ طاس معاہدہ (Indus Waters Treaty) اب ایک نئے اور سنگین امتحان سے دوچار ہے۔ ماہرین کے مطابق بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے اور دریاؤں پر نئے منصوبوں کی تیز رفتار تعمیر نے پاکستان کی آبی، غذائی اور توانائی سلامتی کے لیے طویل المدتی خطرات پیدا کر دیے ہیں۔

1960 میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کو دنیا کے کامیاب ترین بین الاقوامی آبی معاہدوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اسی معاہدے کی بدولت پاکستان نے دریائے سندھ کے نظام پر دنیا کا سب سے بڑا مربوط آبپاشی نظام قائم کیا، جس میں بڑے آبی ذخائر، بیراج، لنک کینالز اور نہروں کا وسیع جال شامل ہے۔ یہی نظام ملک کی 90 فیصد سے زائد زرعی پیداوار کا بنیادی ذریعہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مئی 2025 میں بھارت کی جانب سے معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ معاہدے کی روح کے بھی خلاف ہے۔ اس فیصلے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط آبی تعاون غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارت مغربی دریاؤں پر نئے ڈیموں، نہری منصوبوں اور پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے والی تنصیبات پر تیزی سے کام کر رہا ہے۔ ان منصوبوں میں رنبیر کینال کی توسیع اور چناب-بیاس لنک ٹنل جیسے منصوبے بھی شامل ہیں، جو مستقبل میں پاکستان آنے والے پانی کے بہاؤ اور اس کے وقت کو متاثر کر سکتے ہیں۔

ایک اور تشویشناک پہلو یہ بھی ہے کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو مغربی دریاؤں کے پانی سے متعلق ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا فراہم کرنا بھی روک دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق گزشتہ سال سیلابی موسم کے دوران بروقت معلومات نہ ملنے سے پاکستان کو سیلاب کی پیشگی وارننگ اور ہنگامی تیاریوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس سے انسانی جانوں، زرعی زمینوں اور بنیادی ڈھانچے کو خطرات لاحق ہوئے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کا اصل خدشہ کسی ایک ڈیم یا ایک منصوبے تک محدود نہیں، بلکہ بھارت کی جانب سے متعدد منصوبوں کے ذریعے مجموعی طور پر دریاؤں کے پانی کی مقدار، رفتار اور وقت پر کنٹرول حاصل کرنے کی صلاحیت ہے۔

خصوصی طور پر دریائے چناب کو پاکستان کے لیے انتہائی اہم قرار دیا گیا ہے، کیونکہ ہر سال اوسطاً 25 ملین ایکڑ فٹ پانی چناب کے ذریعے ملک میں داخل ہوتا ہے، جس سے تقریباً ایک کروڑ ایکڑ زرعی اراضی سیراب ہوتی ہے۔ چناب کا پانی پنجاب کے بڑے زرعی علاقوں میں گندم، چاول، گنا اور دیگر اہم فصلوں کی پیداوار میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق چونکہ دریائے چناب کا بیشتر کیچمنٹ ایریا بھارت میں واقع ہے، اس لیے اگر بھارت پانی کے بہاؤ کو منظم کرنے کی زیادہ صلاحیت حاصل کر لیتا ہے تو پاکستان کے آبپاشی نظام، آبی ذخائر، زراعت اور توانائی کے شعبے پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے تین جہتی حکمت عملی اپنانا ہوگی، جس میں سفارتی کوششیں، قانونی کارروائی اور اندرون ملک آبی وسائل کی تیز رفتار ترقی شامل ہے۔

ماہرین نے زور دیا کہ پاکستان کو عالمی بینک، اقوام متحدہ اور دوست ممالک کے ذریعے سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد کے لیے سفارتی دباؤ بڑھانا چاہیے، جبکہ معاہدے میں موجود قانونی فورمز کو بھی بھرپور انداز میں استعمال کرنا چاہیے۔

اس کے ساتھ ساتھ ملک میں بڑے آبی منصوبوں پر فوری پیش رفت کو بھی ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں دیامر بھاشا ڈیم، مہمند ڈیم، داسو ہائیڈرو پاور منصوبہ، تربیلا ڈیم کی پانچویں توسیع، منگلا-مرالہ لنک کینال، سندھ بیراج، چشمہ رائٹ بینک کینال، کچھی کینال، کے-فور واٹر سپلائی منصوبے اور مجوزہ چناب کیسکیڈ منصوبوں کو قومی ترجیحات میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کو اپنی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 13.5 ملین ایکڑ فٹ سے بڑھا کر 23.5 ملین ایکڑ فٹ، زرعی شعبے تک پانی کی دستیابی 64 سے بڑھا کر 84 ملین ایکڑ فٹ اور آبپاشی کے نظام کی استعداد تقریباً 40 فیصد سے بڑھا کر 70 فیصد تک لے جانا ہوگی۔

رپورٹ میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی زور دیا گیا ہے، جس میں ریئل ٹائم ٹیلی میٹری، سیٹلائٹ مانیٹرنگ، مصنوعی ذہانت (AI)، جدید ہائیڈرولوجیکل ماڈلز اور ڈیجیٹل واٹر مینجمنٹ سسٹمز شامل ہیں، تاکہ پانی کے بہاؤ کی بروقت نگرانی اور بہتر فیصلے ممکن بنائے جا سکیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ صرف پانی کی تقسیم کا معاہدہ نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں امن، استحکام اور مشترکہ ترقی کی بنیاد بھی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کو سفارت کاری، بین الاقوامی قانون اور قومی ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے اپنی آبی سلامتی کو یقینی بنانا ہوگا، کیونکہ آنے والے برسوں میں پانی ہی ملک کی معیشت، زراعت، توانائی اور قومی سلامتی کا سب سے اہم ستون ثابت ہوگا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں