ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کا 65 ارب روپے سرپلس بجٹ منظور

فہرستِ مضامین

کراچی: سندھ کے وزیر محنت، افرادی قوت اور سماجی تحفظ سعید غنی کی زیر صدارت ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کی گورننگ باڈی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مالی سال 2026-27 کے لیے 65 ارب روپے کے سرپلس بجٹ کی منظوری دے دی گئی۔

اجلاس میں سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محنت کے چیئرمین ایم پی اے ساجد جوکھیو، سیکریٹری محنت سندھ ساجد جمال ابڑو، سیکریٹری ورکرز ویلفیئر بورڈ سعید صالح جمانی، گورننگ باڈی کے ارکان عبدالجبار، مسعود نقی اور ہمایوں نظیر نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ خصوصی دعوت پر مزدور رہنما حبیب الدین جنیدی، ناصر منصور، زہرہ خان، رحمت شاہ، محمد خان ابڑو، مختیار حسین اعوان اور عبدالواحد شورو بھی اجلاس میں شریک ہوئے، جبکہ سندھ ریونیو بورڈ اور محکمہ خزانہ کے نمائندے بھی موجود تھے۔

اجلاس کے دوران ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کے سالانہ بجٹ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ بجٹ کے مطابق مجموعی آمدنی کا تخمینہ 85 ارب 37 کروڑ 40 لاکھ روپے جبکہ مجموعی اخراجات کا تخمینہ 21 ارب 10 کروڑ 19 لاکھ 74 ہزار روپے لگایا گیا ہے۔

آمدنی کے ذرائع میں سندھ ریونیو بورڈ سے 15 ارب روپے، ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ کے بقایا جات کی مد میں 35 ارب روپے، سندھ ہائی کورٹ میں زیر التوا وصولیوں سے 25 ارب روپے اور ورکرز ویلفیئر بورڈ کی داخلی آمدنی سے 10 ارب 37 کروڑ 40 لاکھ روپے شامل ہیں۔

بجٹ میں مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے 17 ارب 50 کروڑ روپے، ترقیاتی منصوبوں کے لیے 10 ارب 94 کروڑ 7 لاکھ 40 ہزار روپے اور تعلیم کے شعبے کے لیے 7 ارب 1 کروڑ 8 لاکھ 25 ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری ورکرز ویلفیئر بورڈ سعید صالح جمانی نے بتایا کہ مزدوروں کے انتقال پر دی جانے والی گرانٹ کے لیے 80 کروڑ روپے، ملازمین کی بیٹیوں کی شادی گرانٹ کے لیے 40 کروڑ روپے، میرٹ اسکالرشپس کے لیے 15 کروڑ روپے جبکہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے مزدوروں کے بچوں کے لیے اینڈومنٹ فنڈ کی مد میں 2 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ برسوں کی طرح اس سال ای بائیکس اور سلائی مشینوں کی فراہمی کے لیے بجٹ میں کوئی رقم مختص نہیں کی گئی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح مزدوروں اور ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود اور انہیں زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال میں انتظامی اخراجات کو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً نصف کر دیا گیا ہے، تاہم مزدوروں کے لیے فلاحی منصوبوں اور سہولتوں میں کسی قسم کی کمی نہیں کی گئی۔

سعید غنی نے مزید بتایا کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ کی جانب سے دو نئی گاڑیاں خریدنے کے لیے بجٹ میں رقم رکھنے کی تجویز دی گئی تھی، لیکن غیر ضروری اخراجات سے بچنے کے لیے اس تجویز کو مسترد کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں ورکرز ویلفیئر بورڈ اور سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن (سیسی) سے ہر سال فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے انکم ٹیکس کی مد میں کروڑوں روپے کاٹے جاتے تھے۔ اس مسئلے سے پہلے وزیراعلیٰ سندھ کو آگاہ کیا گیا، جس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وفاقی وزیر نوید قمر نے وزیراعظم اور وفاقی وزیر خزانہ سے ملاقات کر کے معاملہ اٹھایا۔

ان کوششوں کے نتیجے میں نہ صرف سندھ بلکہ ملک بھر کے تمام صوبوں کے سوشل سیکیورٹی اداروں اور ورکرز ویلفیئر بورڈز کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا۔

اجلاس کے اختتام پر گورننگ باڈی کے ارکان نے صوبائی وزیر سعید غنی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ اور سوشل سیکیورٹی ادارے کے ذریعے مزدوروں اور ان کے اہل خانہ کو مستقبل میں مزید بہتر، وسیع اور مؤثر فلاحی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں