وزیراعظم شہباز شریف ہفتے کے روز چار روزہ سرکاری دورے پر چین روانہ ہو گئے ہیں، جہاں وہ چینی قیادت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات، خطے کی بدلتی صورتحال اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر تفصیلی بات چیت کریں گے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم کا یہ دورہ 23 سے 26 مئی 2026 تک جاری رہے گا اور اسے پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی و تزویراتی تعاون کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم کے ہمراہ اعلیٰ سطح وفد بھی چین گیا ہے، جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ اور معاون خصوصی طارق فاطمی شامل ہیں۔
یہ دورہ ایک ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب پاکستان اور چین اپنے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منا رہے ہیں، جسے دونوں ممالک “آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ” کی علامت قرار دیتے ہیں۔
دورانِ قیام وزیراعظم شی جن پنگ اور چینی وزیراعظم لی چیانگ سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تعاون کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق ملاقاتوں میں مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال، علاقائی استحکام، عالمی سفارت کاری اور اقتصادی تعاون کے نئے امکانات بھی زیر بحث آئیں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کا کہنا ہے کہ پاکستان اور چین خطے کی صورتحال خصوصاً مشرقِ وسطیٰ کے معاملے پر مسلسل رابطے میں ہیں، جبکہ چین نے ہمیشہ خطے میں امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت کی ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق مذاکرات میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کے اگلے مرحلے، تجارت، سرمایہ کاری، صنعتی شراکت داری، زرعی جدیدکاری، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سائنس و ٹیکنالوجی اور عوامی روابط کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
وزیراعظم اپنے دورے کا آغاز چینی صوبے ژی جیانگ کے شہر ہانگژو سے کریں گے، جہاں وہ پاکستان-چین بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس کی صدارت کریں گے۔
کانفرنس میں آئی ٹی، ٹیلی کام، بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز اور زرعی شعبے میں سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کے امکانات پر غور کیا جائے گا۔
بیجنگ میں وزیراعظم ایک خصوصی استقبالیہ تقریب میں بھی شرکت کریں گے، جس کا اہتمام China People’s Association for Friendship with Foreign Countries نے پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے پر کیا ہے۔
حکومتی حکام کے مطابق اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اعتماد مزید مستحکم ہوگا، اقتصادی روابط کو نئی رفتار ملے گی اور پاکستان و چین کی دیرینہ تزویراتی شراکت داری مزید مضبوط ہو گی۔