امریکی فوج نے ایران کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے اطراف ایرانی میزائل لانچنگ سائٹس اور کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی حکام نے ان حملوں کو “دفاعی کارروائی” قرار دیا ہے۔
یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب جنگ بندی کے دوران بھی امریکا اور ایران کی افواج کے درمیان کئی مرتبہ فائرنگ کے تبادلے ہو چکے ہیں۔ تازہ حملوں کے بعد یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ موجودہ جنگ بندی متاثر ہو سکتی ہے اور خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔
دوسری جانب جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ حملوں سے چند گھنٹے قبل ایرانی مذاکرات کاروں نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں قطری ثالثوں سے اہم ملاقاتیں کیں، جن میں امریکا کے ساتھ رابطوں اور ممکنہ معاہدے پر گفتگو ہوئی۔
ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران ایک “مفاہمتی یادداشت” یعنی میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ کی جانب بڑھ رہے ہیں، تاہم ایران کے جوہری پروگرام اور پابندیوں سے متعلق نکات پر اختلافات کے باعث معاہدہ تاحال حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ عالمی تیل تجارت کے لیے انتہائی اہم آبنائے ہرمز میں بھی استحکام واپس آ سکتا ہے۔