امریکی صدر Donald Trump نے مشرقِ وسطیٰ میں امن اور ایران جنگ کے خاتمے کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی سے جوڑتے ہوئے سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکی، مصر اور اردن پر زور دیا ہے کہ وہ اجتماعی طور پر ’ابراہیمی معاہدوں‘ میں شامل ہو جائیں۔
ٹرمپ کے اس بیان کے بعد خطے میں ایک نئے سفارتی اور سیاسی مباحثے نے جنم لے لیا ہے، جسے مبصرین ’نیو ابراہیم اکارڈز‘ قرار دے رہے ہیں۔
ابراہیمی معاہدوں سے مراد وہ سفارتی معاہدے ہیں جن کے تحت مسلم اکثریتی ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لاتے ہیں۔ سنہ 2020 میں Donald Trump کے پہلے دورِ صدارت کے دوران متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔
اب ٹرمپ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب، پاکستان، قطر اور دیگر اہم مسلم ممالک بھی اس اتحاد میں شامل ہوں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو خطے میں ایک “تاریخی امن معاہدہ” ممکن ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ انہوں نے حالیہ دنوں سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکی، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے رہنماؤں سے رابطے کیے ہیں اور ان پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر ابراہیمی معاہدوں کا حصہ بنیں۔
انہوں نے لکھا کہ اگر ایران امریکہ کے ساتھ معاہدہ کر لیتا ہے تو یہ ایک “بے مثال عالمی اتحاد” بن سکتا ہے، جس میں اسرائیل اور مسلم دنیا کے درمیان تعلقات کی نئی بنیاد رکھی جائے گی۔
پاکستان کا مؤقف کیا ہے؟
پاکستان نے تاحال ٹرمپ کے حالیہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا، تاہم اسلام آباد ماضی میں کئی مرتبہ واضح کر چکا ہے کہ وہ اسرائیل کو اس وقت تک تسلیم نہیں کرے گا جب تک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہیں ہو جاتی، جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو۔
دفتر خارجہ کے ترجمان ماضی میں واضح کر چکے ہیں کہ پاکستان ابراہیمی معاہدوں کا حصہ بننے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ پاکستان اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کے کردار میں دکھائی دے رہا ہے اور واشنگٹن کے ساتھ اس کے تعلقات نسبتاً بہتر ہیں، لیکن اس کے باوجود اسرائیل کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی میں فوری تبدیلی کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔
جنوبی ایشیا کے امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے کسی بھی ممکنہ فیصلے کا انحصار بڑی حد تک سعودی عرب کے مؤقف پر ہو گا۔ اگر ریاض مستقبل میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لاتا ہے تو اسلام آباد پر بھی سفارتی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
ایران مذاکرات اور نئے حملے
یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق بعض اہم معاملات پر اتفاق رائے پیدا ہوا ہے، تاہم حتمی معاہدہ ابھی طے نہیں پایا۔
ادھر امریکی فوج نے جنوبی ایران میں نئی کارروائیاں کرتے ہوئے ایرانی میزائل تنصیبات اور ان کشتیوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طور پر بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔
مبصرین کے مطابق ٹرمپ خطے میں ایک نئی سفارتی صف بندی کی کوشش کر رہے ہیں، جس میں ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کو اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات سے جوڑا جا رہا ہے۔
کیا ’نیو ابراہیم اکارڈز‘ حقیقت بن سکیں گے؟
ماہرین کے مطابق سب سے اہم سوال سعودی عرب کا ہے، کیونکہ ریاض کا دیرینہ مؤقف یہی رہا ہے کہ فلسطینی ریاست کے واضح روڈ میپ کے بغیر اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
علاقائی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ، لبنان اور شام کی صورتحال کے بعد کئی مسلم ممالک اسرائیل کے حوالے سے شدید تحفظات رکھتے ہیں، جس کے باعث ٹرمپ کی خواہش کے مطابق فوری طور پر کسی بڑے اتحاد کا قیام آسان نظر نہیں آتا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ امریکہ خطے میں ایک نئے سیاسی اتحاد کی بنیاد رکھنا چاہتا ہے، لیکن عوامی رائے، فلسطین کا مسئلہ اور موجودہ علاقائی کشیدگی اس راستے میں بڑی رکاوٹیں بن سکتی ہیں۔