میدانِ عرفات لبیک کی صداؤں سے گونج اٹھا، حج 2026 رکنِ اعظم کے مرحلے میں داخل

فہرستِ مضامین

حج 2026 آج اپنے سب سے اہم اور روح پرور مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جہاں 16 لاکھ سے زائد فرزندانِ اسلام رکنِ اعظم وقوفِ عرفہ کی ادائیگی کے لیے میدانِ عرفات میں موجود ہیں۔

صرف ایک دن کے لیے آباد ہونے والا عظیم میدان آج دنیا بھر سے آئے لاکھوں عازمینِ حج کی لبیک، دعا اور عبادت سے گونج رہا ہے۔ ہر سمت سفید احراموں میں ملبوس حجاج کی روح پرور مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں، جبکہ فضاؤں میں “لبیک اللہم لبیک” کی صدائیں مسلسل بلند ہو رہی ہیں۔

میدانِ عرفات کی تاریخی مسجدِ نمرہ میں حجاج کرام ظہر اور عصر کی نمازیں قصر و جمع کی صورت میں ادا کریں گے اور حج کا خطبہ سنیں گے۔ علما کے مطابق یومِ عرفہ اسلامی سال کے مقدس ترین دنوں میں شمار ہوتا ہے، جسے رحمت، مغفرت اور قبولیتِ دعا کا دن قرار دیا جاتا ہے۔

یہ دن نبی کریم ﷺ کے حجۃ الوداع سے بھی منسلک ہے، جب آپ ﷺ نے جبلِ عرفات پر انسانیت کے لیے تاریخی خطبہ دیا تھا، جس میں مساوات، انصاف، انسانی حقوق اور جان و مال کے احترام کے اصول واضح فرمائے گئے تھے۔

جبلِ رحمت پر دعاؤں کا منظر

حجاج کی بڑی تعداد صبح سویرے ہی جبلِ رحمت اور اس کے اطراف پہنچ گئی تھی، جہاں رقت آمیز دعاؤں اور تلاوتِ قرآن کے مناظر دیکھنے میں آئے۔ کئی حجاج اشکبار آنکھوں کے ساتھ اپنے، اپنے اہلِ خانہ اور امتِ مسلمہ کے لیے خصوصی دعائیں کرتے رہے۔

وقوفِ عرفہ کے لیے حجاج کو گزشتہ رات وادی منیٰ سے قافلوں کی صورت میں میدانِ عرفات لانے کا عمل شروع ہوا تھا۔ مشاعر ٹرین، خصوصی بسوں اور دیگر ٹرانسپورٹ کے ذریعے لاکھوں عازمین کو مرحلہ وار عرفات پہنچایا گیا۔

مزدلفہ روانگی کی تیاریاں

حجاج سارا دن میدانِ عرفات میں قیام کے بعد غروبِ آفتاب کے ساتھ مزدلفہ روانہ ہوں گے، جہاں مغرب اور عشا کی نمازیں قصر و جمع کی صورت میں ادا کی جائیں گی۔ مزدلفہ میں حجاج رمیِ جمرات کے لیے کنکریاں بھی جمع کریں گے اور پھر فجر کے بعد وادی منیٰ کی جانب روانہ ہوں گے۔

مثالی انتظامات، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال

سعودی انتظامیہ کی جانب سے میدانِ عرفات میں غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ مسجدِ نمرہ اور جبلِ رحمت کی آمد و رفت کے راستوں کو الگ رکھا گیا ہے تاکہ ازدحام اور دھکم پیل سے بچا جا سکے۔

ٹریفک پولیس، سکیورٹی فورسز، ہلالِ احمر کے یونٹس، اسکاؤٹس اور رضاکار تنظیمیں مختلف مقامات پر حجاج کی رہنمائی اور مدد میں مصروف ہیں۔

شدید گرمی کے پیشِ نظر اس سال جبلِ رحمت کے اطراف جدید زمینی ایئرکنڈیشن یونٹس بھی نصب کیے گئے ہیں، جنہوں نے تپتے موسم میں حجاج کو خاصی راحت فراہم کی۔ جدید کولنگ سسٹم کے باعث عرفات کے کئی حصوں میں موسم نسبتاً خوشگوار محسوس کیا گیا۔

دنیا بھر کے مسلمانوں کی نظریں آج میدانِ عرفات پر مرکوز ہیں، جہاں لاکھوں حجاج عبادت، دعا اور روحانی تجدید کے اس عظیم اجتماع میں شریک ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں