ایک تحقیقی اور تاریخی رپورٹ
محرم الحرام کی عزاداری برصغیر کی مذہبی اور ثقافتی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے۔ سندھ، پنجاب، اتر پردیش، دکن، گجرات اور بنگال میں صدیوں سے امام حسینؑ اور کربلا کے شہداء کی یاد میں مجالس، ماتم، تعزیے اور جلوس نکالے جاتے رہے ہیں۔ تعزیے کی روایت خاص طور پر برصغیر میں فروغ پائی، جہاں کربلا میں موجود امام حسینؑ کے روضۂ مبارک کی علامتی شکل کے طور پر تعزیے تیار کیے جاتے تھے۔
تعزیے کی ابتدا کیسے ہوئی؟
لفظ “تعزیہ” عربی لفظ “تعزیت” سے ماخوذ ہے، جس کے معنی غم میں شریک ہونے یا تعزیت پیش کرنے کے ہیں۔ برصغیر میں تعزیے سے مراد امام حسینؑ کے روضے کی علامتی نقل ہے، جو بانس، لکڑی، شیشے، رنگین کاغذ اور دھاتوں سے تیار کی جاتی ہے۔ یہ روایت ایران، عراق اور وسطی ایشیا کے اثرات کے تحت برصغیر میں آئی، لیکن یہاں آ کر اس نے ایک منفرد مقامی شکل اختیار کر لی۔
سندھ میں عزاداری کی قدامت
سندھ میں اہلِ بیتؑ سے محبت کی روایت اسلام کے ابتدائی دور سے موجود رہی ہے۔ عربوں کی آمد کے بعد، اور خصوصاً سومرا، سما، کلہوڑا اور تالپور ادوار میں محرم کی مجالس اور ماتمی رسومات عام ہوئیں۔ کلہوڑا اور تالپور حکمرانوں کے زمانے میں سندھ کے مختلف شہروں میں امام بارگاہیں، پڑ اور عزاخانے قائم کیے گئے۔
سندھ کے مشہور تعزیے
روہڑی
روہڑی کے “کربلا مولا ماتم” اور تعزیوں کی تاریخ کئی صدیوں پر محیط ہے۔ یہاں محرم کے پہلے دس دنوں میں مختلف تعزیے نکالے جاتے تھے، جن میں کربلا مولا کا تعزیہ سب سے قدیم تصور کیا جاتا ہے۔
سکھر
سکھر میں شاہی بازار، منارہ روڈ اور علی والی قبر تک نکلنے والے جلوس سندھ کے قدیم ترین جلوسوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہاں تعزیوں پر آئینے اور شیشے کا نہایت نفیس کام کیا جاتا تھا۔
حیدرآباد
حیدرآباد کی ریشم گلی، پھلیلی اور اسٹیشن روڈ کے تعزیے پورے سندھ میں مشہور رہے ہیں۔ ان کی سجاوٹ میں سندھی فن و ثقافت کی واضح جھلک دکھائی دیتی ہے۔
خیرپور
ریاست خیرپور میں تالپور حکمرانوں نے عزاداری کی بھرپور سرپرستی کی۔ بی بی بالی کے پڑ، قدم گاہ مولا علیؑ اور دیگر مقامات سے جلوس برآمد ہوتے رہے ہیں۔
پڑ کیا ہیں؟
سندھ میں “پڑ” دراصل عزاداری کے مراکز ہوتے ہیں۔ ہر پڑ کا اپنا علم، تعزیہ، تابوت یا ذوالجناح ہوتا ہے۔ محرم کے دوران لوگ ان پڑوں پر جمع ہوتے ہیں اور وہیں سے جلوس روانہ کیے جاتے ہیں۔
خیرپور، سکھر، روہڑی، حیدرآباد، ٹنڈو محمد خان، شہدادپور اور نواب شاہ میں سینکڑوں تاریخی پڑ موجود رہے ہیں۔
ہندو برادری کی شرکت
برصغیر کی ایک منفرد روایت یہ بھی رہی ہے کہ متعدد ہندو خاندان، خصوصاً “حسینی برہمن”، محرم کی تقریبات میں شریک ہوتے رہے ہیں۔ کئی مقامات پر ہندو کاریگر تعزیے تیار کرتے تھے اور جلوسوں میں بھی حصہ لیتے تھے۔ آج بھی کراچی اور سندھ کے بعض علاقوں میں ہندو خاندان تعزیوں کی تیاری اور عزاداری میں شریک ہوتے ہیں۔
کراچی میں تعزیوں کی تاریخ
تقسیمِ ہند سے قبل کراچی میں ایرانی، کھوجہ، کچھی اور سندھی شیعہ برادریاں عزاداری کی بنیادی روایات قائم کر چکی تھیں۔ 1947ء کے بعد لکھنؤ، گجرات، کاٹھیاواڑ، حیدرآباد دکن اور دیگر علاقوں سے آنے والے مہاجرین نے تعزیوں اور تابوتوں کی روایت کو مزید فروغ دیا۔
حسینیان ایرانیان
کراچی کے قدیم ترین عزاخانوں میں شمار ہونے والی یہ امام بارگاہ آج بھی عاشورہ کے مرکزی جلوس کے اختتامی مقام کے طور پر اہمیت رکھتی ہے۔
شاہِ خراسان امام بارگاہ
کراچی کی عزاداری کا ایک اہم مرکز ہے، جہاں سے نویں اور دسویں محرم کے بڑے جلوس برآمد ہوتے ہیں۔
تعزیے کہاں تیار کیے جاتے تھے؟
کراچی میں تعزیے عموماً کھارادر، میٹھادر، سولجر بازار، مارٹن روڈ، لیاقت آباد اور انچولی کے کاریگروں اور امام بارگاہوں میں تیار کیے جاتے تھے۔ ان کی تیاری میں لکڑی، شیشہ، آئینہ، رنگین کاغذ اور پیتل استعمال ہوتا تھا۔
تعزیوں کو کہاں دفن یا نذر کیا جاتا تھا؟
برصغیر کے کئی شہروں، مثلاً لکھنؤ، دہلی، بمبئی اور حیدرآباد دکن میں تعزیوں کو دریاؤں، جھیلوں یا سمندر میں نذر کیا جاتا تھا۔
کراچی میں بھی ابتدائی دور میں بعض کھوجہ برادریوں کے تعزیے نیٹی جیٹی کے قریب سمندر میں نذر کیے جاتے تھے، لیکن بعد میں یہ روایت تقریباً ختم ہو گئی اور تعزیے امام بارگاہوں میں محفوظ رکھے جانے لگے یا سندھ کے مختلف شہروں میں عقیدت کے اظہار کے لیے بھیجے جانے لگے۔
چُپ تعزیہ
کراچی اور لکھنؤ میں “چُپ تعزیہ” بھی ایک معروف روایت رہی ہے۔ یہ جلوس بغیر نوحہ خوانی اور شور و غل کے خاموشی سے نکالا جاتا ہے اور عزاداری کی اختتامی رسومات میں شمار ہوتا ہے۔
سندھ کی عزاداری کی نمایاں خصوصیات
سندھ کی عزاداری کو برصغیر میں منفرد بنانے والے چند اہم عناصر یہ ہیں:
پڑوں کا منظم نظام
سندھی نوحہ خوانی
ٹانڈوں پر ماتم کی روایت
تعزیوں اور تابوتوں کی مقامی طرزِ تعمیر
ہندو اور مسلمان برادریوں کی مشترکہ شرکت
کلہوڑا اور تالپور ادوار کی سرپرستی
نتیجہ
سندھ میں محرم کی عزاداری صرف ایک مذہبی رسم نہیں بلکہ صدیوں پر مشتمل ایک عظیم ثقافتی اور تاریخی ورثہ بھی ہے۔ روہڑی کے قدیم تعزیوں سے لے کر خیرپور کے پڑوں، حیدرآباد کے جلوسوں اور کراچی کے حسینیان ایرانیان تک، سندھ کی عزاداری برصغیر کی ان چند روایات میں شامل ہے جہاں تاریخ، عقیدت، فنِ تعمیر، لوک ثقافت اور اجتماعی یادداشت ایک دوسرے میں گھل مل جاتی ہیں۔