شہید خامنہ ای کی آخری رسومات، نمازِ جنازہ کی امامت کون کرے گا؟

فہرستِ مضامین

تحریر: اِشفاق احمد

ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کون پڑھائے گا، اس بارے میں اب تک حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ تہران، قم اور مشہد میں ہونے والی نمازِ جنازہ کی امامت ایک ہی شخصیت کرے گی یا مختلف مقامات پر الگ الگ علما یہ ذمہ داری انجام دیں گے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ذرائع کے مطابق مرکزی نمازِ جنازہ معروف شیعہ مرجع آیت اللہ جعفر سبحانی پڑھا سکتے ہیں، تاہم اس کی سرکاری تصدیق ابھی باقی ہے۔

ماضی کی روایت کیا کہتی ہے؟

ایران کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو سپریم لیڈر کے انتقال کے بعد ان کی نمازِ جنازہ نئے رہبرِ اعلیٰ کی جانب سے پڑھانا کوئی لازمی روایت نہیں رہی۔

1989 میں جب آیت اللہ روح اللہ خمینی کا انتقال ہوا تو 6 جون کو ان کی نمازِ جنازہ آیت اللہ سید محمد رضا گلپائیگانی نے پڑھائی تھی، جو اس وقت حوزہ علمیہ قم کی نمایاں مذہبی شخصیت تھے۔ اس موقع پر آیت اللہ علی خامنہ ای صفِ اول میں ان کے دائیں جانب موجود تھے، لیکن اس وقت تک انہیں سپریم لیڈر منتخب نہیں کیا گیا تھا۔

بعد ازاں 6 اگست 1989 کو، یعنی آیت اللہ خمینی کی نمازِ جنازہ کے تقریباً دو ماہ بعد، آیت اللہ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب ہوئے تھے۔

کیا نئے سپریم لیڈر نمازِ جنازہ پڑھائیں گے؟

امریکا اور اسرائیل کے 28 فروری کے مشترکہ حملے میں آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران نے تقریباً ایک ہفتے کے اندر آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا تھا، تاہم تدفین کو بعد میں ہونے والی سرکاری تقریبات تک مؤخر رکھا گیا۔

اب سب سے اہم سوال یہی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا نئے سپریم لیڈر اپنے والد کی نمازِ جنازہ خود پڑھائیں گے یا نہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق اس سوال کی اہم وجہ سکیورٹی خدشات ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ نئے سپریم لیڈر کو سنگین خطرات لاحق ہیں، اسی لیے ان کی عوامی سرگرمیوں اور ملاقاتوں کو انتہائی محدود رکھا گیا ہے۔ منصب سنبھالنے کے بعد انہوں نے اب تک کسی غیر ملکی شخصیت سے براہِ راست ملاقات بھی نہیں کی۔

سکیورٹی کیوں بڑا مسئلہ بن گئی؟

ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ امریکا ایران میں “رجیم چینج” کے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا، جبکہ آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ان کے 56 سالہ بیٹے کی قیادت میں نظامِ حکومت برقرار رہا۔

حج 2026 کے موقع پر اپنے پیغام میں نئے سپریم لیڈر نے کہا تھا کہ ایرانی قوم نے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے باوجود ثابت قدم رہتے ہوئے امریکا اور اسرائیل کا مقابلہ کیا اور اپنی دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک موقع پر نئے سپریم لیڈر سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا، تاہم بعد میں اس مؤقف میں نرمی لاتے ہوئے ایسی کسی بھی ملاقات کو مخصوص شرائط سے مشروط قرار دیا۔

نمازِ جنازہ اور تدفین کا شیڈول

ذرائع کے مطابق 4 سے 6 جولائی تک تہران میں نمازِ جنازہ کے اجتماعات منعقد ہوں گے، جبکہ 7 جولائی کو قم میں بھی بڑی تقریب ہوگی۔

8 جولائی کو جسدِ خاکی عراق لے جانے کا پروگرام بنایا گیا ہے، جہاں نجف اور کربلا میں نمازِ جنازہ ادا کرنے کے بعد اسی روز میت دوبارہ ایران واپس لائی جائے گی۔

9 جولائی کو مشہد میں آخری نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد وہیں تدفین ہوگی۔

ایک کروڑ سے زائد افراد کی شرکت متوقع

ذرائع کا کہنا ہے کہ نمازِ جنازہ اور آخری رسومات میں ایک کروڑ سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے، جس کے باعث نئے سپریم لیڈر کی سکیورٹی ایرانی حکام کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

اطلاعات کے مطابق عوام شہید رہبرِ اعلیٰ کا آخری دیدار کرنے کے ساتھ ساتھ نئے سپریم لیڈر کی ایک جھلک دیکھنے کے بھی خواہش مند ہیں، تاہم امکان یہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ان کی عوامی موجودگی کو انتہائی محدود رکھا جائے گا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں