کینیڈا، امریکہ اور میکسیکو میں جاری فیفا ورلڈ کپ 2026 کے سنسنی خیز کوارٹر فائنل میں سپین نے بیلجیم کو 1-2 سے شکست دے کر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔ مائیکل میرینو نے ایک مرتبہ پھر سپین کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہوئے آخری لمحات میں گول کر کے اپنی ٹیم کو فتح دلا دی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اب سیمی فائنل میں سپین کا مقابلہ منگل کو آرلنگٹن، ٹیکساس میں روایتی حریف فرانس سے ہوگا، جہاں دونوں مضبوط ٹیموں کے درمیان کانٹے دار مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔
ہیڈ کوچ لوئس ڈی لا فونٹے کا مائیکل میرینو پر اعتماد ایک بار پھر درست ثابت ہوا۔ دائیں پاؤں کے فریکچر کے باعث کئی ماہ تک فٹبال سے دور رہنے والے میرینو اب سپین کی کامیابیوں کے اہم ترین کھلاڑی بن چکے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے پرتگال کے خلاف پری کوارٹر فائنل میں اضافی وقت میں فیصلہ کن گول کیا تھا، جبکہ بیلجیم کے خلاف بھی میدان میں آنے کے صرف دو منٹ بعد 88ویں منٹ میں فاتحانہ گول اسکور کر دیا۔
میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے مائیکل میرینو نے کہا کہ یہ لمحہ ان کے لیے ناقابلِ یقین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کھلاڑی ذہنی طور پر تیار ہو تو قسمت بھی اس کا ساتھ دیتی ہے۔
میچ کے آغاز سے ہی سپین نے جارحانہ کھیل پیش کیا اور 30ویں منٹ میں فابین روئز نے ریباؤنڈ پر گیند کو جال میں پہنچا کر اپنی ٹیم کو برتری دلائی۔ تاہم بیلجیم نے 41ویں منٹ میں چارلس ڈی کیٹیلیئر کے شاندار ہیڈر کے ذریعے مقابلہ برابر کر دیا، جو اس ورلڈ کپ میں سپین کے خلاف ہونے والا پہلا گول بھی تھا۔
فیصلہ کن لمحہ 88ویں منٹ میں آیا جب بیلجیم کے متبادل گول کیپر سینے لیمنز ایک آسان شاٹ کو مکمل طور پر کنٹرول نہ کر سکے اور مائیکل میرینو نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گیند کو جال میں پہنچا دیا۔ لیمنز کو زخمی تھیبو کورٹووا کی جگہ 71ویں منٹ میں میدان میں اتارا گیا تھا۔
شکست کے بعد بیلجیم کے کوچ روڈی گارسیا نے کہا کہ بدقسمتی نے ان کی ٹیم کا ساتھ نہیں دیا۔ ان کے مطابق وارم اپ کے دوران کپتان یوری ٹیلیمنز زخمی ہوگئے، بعد ازاں گول کیپر تھیبو کورٹووا بھی انجری کا شکار ہوئے جبکہ کیون ڈی بروئن کو بھی تبدیل کرنا پڑا، جس کے باعث ٹیم کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اب فٹبال شائقین کی نظریں سپین اور فرانس کے درمیان ہونے والے سیمی فائنل پر مرکوز ہیں۔ فرانس مسلسل تیسری بار ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچنے کی کوشش کرے گا، جبکہ سپین یورو 2024 کے سیمی فائنل میں حاصل کی گئی فتح کو دہرانے کے لیے پُرعزم ہے۔
سپین کے نوجوان اسٹار لامین یامال نے فرانس کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی ٹیم کو فکر ہونی چاہیے تو وہ فرانس ہے، کیونکہ سپین کسی بھی حریف سے خوفزدہ نہیں اور اس کا اگلا ہدف ورلڈ کپ کا فائنل ہے۔
اس کامیابی کے بعد سپین کی ناقابلِ شکست رہنے کی سیریز 36 میچز تک جا پہنچی ہے۔ اگر لا روہا سیمی فائنل میں فرانس کو بھی شکست دینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو وہ اٹلی کے مسلسل 37 میچز تک ناقابلِ شکست رہنے کے عالمی ریکارڈ کی برابری کر لے گی۔