مذاکرات یا غلط فہمی؟ ٹرمپ کے بیان پر ایران کی سخت تردید

فہرستِ مضامین

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تہران نے واشنگٹن سے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے کی درخواست کی ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ایران نے امریکا سے کسی قسم کی مذاکراتی درخواست نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے صرف قطری ثالثوں کے دورے کو قبول کیا تھا، جسے مذاکرات کی درخواست قرار دینا درست نہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر امریکا مفاہمتی فریم ورک یا کسی بھی معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کرتا ہے تو ایران بھی اسی نوعیت کا متناسب جواب دے گا۔

ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق ترجمان نے کہا کہ واشنگٹن کی کسی بھی وعدہ خلافی پر تہران خاموش نہیں رہے گا اور ہر اقدام کا جواب باہمی اور مناسب انداز میں دیا جائے گا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک روز قبل دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے امریکا سے مذاکرات جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کی ہے، جس پر واشنگٹن نے مثبت ردعمل دیا۔ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکا نے ایران کو واضح کر دیا ہے کہ جنگ بندی کا مرحلہ اب ختم ہو چکا ہے۔

ایران کے تازہ بیان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان حالیہ سفارتی بیانات میں ایک بار پھر واضح تضاد سامنے آ گیا ہے، جس سے مستقبل کے مذاکرات اور دوطرفہ تعلقات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں