لاہورمیں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر چوہدری سرفراز اور دیگر افسران کے خلاف درج مقدمے کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ یہ مقدمہ معروف یوٹیوبر سعد الرحمٰن المعروف ڈکی بھائی کی اہلیہ عروب جتوئی کی مدعیت میں درج کیا گیا، جس میں سنگین رشوت ستانی کے […]

لائیو کوریج

28 اکتوبر 2025

یوٹیوبر ڈکی بھائی کے اہلِ خانہ سے 90 لاکھ روپے رشوت لینے کے الزام میں این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر سمیت چار افسران گرفتار

لاہورمیں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر چوہدری سرفراز اور دیگر افسران کے خلاف درج مقدمے کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ یہ مقدمہ معروف یوٹیوبر سعد الرحمٰن المعروف ڈکی بھائی کی اہلیہ عروب جتوئی کی مدعیت میں درج کیا گیا، جس میں سنگین رشوت ستانی کے الزامات شامل ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق ڈکی بھائی کے اہلِ خانہ سے مجموعی طور پر 90 لاکھ روپے رشوت لی گئی۔ تفتیشی افسر شعیب ریاض نے مبینہ طور پر یوٹیوبر کو ریلیف دلوانے کے عوض 60 لاکھ روپے اپنے فرنٹ مین کے ذریعے وصول کیے، جو ڈکی بھائی کے قریبی دوست عثمان نے ادا کیے تھے۔ بعد ازاں، شعیب ریاض نے 30 لاکھ روپے رشوت مزید وصول کی تاکہ ڈکی بھائی کا جوڈیشل ریمانڈ کروایا جا سکے۔

ایف آئی آر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شعیب ریاض نے 50 لاکھ روپے کار شو روم کے مالک کے پاس فرنٹ مین کے ذریعے رکھوائے جبکہ 20 لاکھ روپے اپنے پاس رکھے، اور اس میں سے 5 لاکھ روپے ایڈیشنل ڈائریکٹر چوہدری سرفراز کو دیے گئے۔ مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور رشوت لے کر قانونی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے لاہور میں کارروائی کرتے ہوئے این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر چوہدری سرفراز سمیت چار افسران کو گرفتار کیا۔

ڈکی بھائی 20 اگست سے این سی سی آئی اے کی تحویل میں ہیں اور ان پر الزام ہے کہ وہ بین الاقوامی آن لائن جوئے کے نیٹ ورک سے منسلک ہیں اور بھاری رقوم کے عوض سوشل میڈیا پر جوئے کی ایپس کی تشہیر کر رہے تھے۔ ان کی ضمانت کی درخواستیں عدالتی طور پر مسترد کی جا چکی ہیں، جس کے باعث وہ اب بھی عدالتی ریمانڈ پر جیل میں ہیں۔

12 اکتوبر 2025

افغان جارحیت پر پاک فوج کا منہ توڑ جواب، 19 افغان چیک پوسٹوں پر قبضہ، پاکستانی پرچم لہرادیا گیا

پاک افغان سرحد پر افغانستان کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کے بعد پاک فوج نے مؤثر اور بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغان فورسز کو منہ توڑ جواب دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے مختلف سیکٹرز میں 19 افغان پوسٹوں پر قبضہ کرلیا ہے، جن پر پاکستان کا قومی پرچم لہرا دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق افغان فورسز نے گزشتہ رات تقریباً 10 بجے انگور اڈا، باجوڑ، کرم، اپر دیر، چترال اور بلوچستان کے علاقے بارام چاہ میں بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ شروع کیا جس کے جواب میں پاک فوج نے توپ خانے، ٹینکوں، ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سمیت فضائی وسائل کا بھرپور استعمال کیا۔کارروائی کے دوران طالبان اور داعش کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا

پاکستانی فورسز کی رات گئے مؤثر کارروائی، قبضہ شدہ پوسٹس پر تباہی کے مناظر

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز نے افغانستان کی جارحیت کے جواب میں رات گئے مؤثر حملہ کرتے ہوئے ان 19 پوسٹوں پر قبضہ کیا جہاں سے پاکستان پر فائرنگ ہو رہی تھی۔ سوشل میڈیا پر جاری ویڈیوز میں ان پوسٹوں پر تباہی اور پاکستانی پرچم لہراتے ہوئے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

طالبان فورسز پسپا، متعدد اہلکار سرنڈر کر گئے

بیشتر افغان طالبان اہلکار پوسٹیں خالی چھوڑ کر فرار ہو گئے جبکہ کچھ نے موقع پر ہی ہتھیار ڈال دیے۔ افغان ملٹری کیمپس پر بھاری نقصان کی اطلاعات ہیں۔

چمن بارڈر پر خوارجی دہشتگردوں کا خاتمہ

چمن بارڈر کے علاقوں میں افغان طالبان اور ان کے ساتھ چھپے خوارجی دہشتگردوں پر شدید حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں متعدد دہشتگرد مارے گئے اور باقی منتشر ہو گئے۔

برابچہ میں لانچنگ بٹالین کو نشانہ بنایا گیا

پاک فوج نے برابچہ کے علاقے میں افغان طالبان کی اس بٹالین پر حملہ کیا جہاں سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد پاکستان میں داخل کیے جا رہے تھے۔

درانی کیمپ 2 اور غزنالی ہیڈکوارٹر مکمل تباہ

درانی کیمپ 2 پر حملے میں 50 سے زائد افغان اہلکار اور خارجی ہلاک ہوئے، جبکہ غزنالی ہیڈکوارٹر میں بھی درجنوں طالبان اور خوارجی مارے گئے۔

کھرچر فورٹ کا خاتمہ، خوارجیوں کا مرکز تباہ

برامچہ سیکٹر میں فتنہ الخوارج کا اہم مرکز “کھرچر فورٹ” پاک فوج کی مؤثر کارروائی کے نتیجے میں مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ خرلاچی سیکٹر میں بھی افغان پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا۔

فضائی اور ڈرون حملے، افغان دفاعی نظام ناکام

پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق داعش اور خوارجی دہشتگردوں کو نشانہ بنانے کے لیے فضائی کارروائیوں اور ڈرونز کا استعمال بھی کیا گیا، افغان پوسٹیں کور فائر دینے میں ناکام رہیں۔

منوجیا بٹالین ہیڈکوارٹر 1 اور 2 ملبے کا ڈھیر

افغان طالبان کے منوجیا بٹالین ہیڈکوارٹر 1 اور 2 مکمل تباہ کر دیے گئے، درجنوں طالبان اور خوارجی عناصر کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

ترکمانزئی، میلا، ٹالی اور جنڈوسر پوسٹیں بھی نیست و نابود

افغانستان کے ترکمانزئی کیمپ، میلا کیمپ، ٹالی پوسٹ، جنڈوسر اور کنڑ پوسٹ سمیت متعدد عسکری تنصیبات کو بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔

لیوبند، قلعہ عبداللہ اور چاغی میں بھی کارروائیاں

پاک فوج کی فائرنگ سے لیوبند، قلعہ عبداللہ اور چاغی کے علاقوں میں موجود افغان دہشتگردوں کی پوزیشنز کو بھی نشانہ بنایا گیا، کئی افغان چیک پوسٹیں اڑا دی گئیں۔

چترال کے قریب افغان پوسٹ کو ٹینک اور آرٹلری سے نشانہ بنایا گیا

چترال کے قریب افغان پوسٹ کو آرٹلری، ٹینکوں اور دیگر ہتھیاروں سے تباہ کیا گیا۔ ویڈیوز میں پوسٹ پر لگنے والی آگ اور فرار ہوتے افغان اہلکار دیکھے جا سکتے ہیں۔

27 اہداف کو نشانہ بنایا گیا، بڑی کامیابی قرار

اب تک 27 مختلف افغان اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ وہ جگہیں تھیں جہاں سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کی جاتی تھیں، اور اب وہ مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔

وہی جواب دیا جائے گا، جو بھارت کو دیا تھا، محسن نقوی+

وزیر داخلہ محسن نقوی نے اتوار کی صبح پاکستان آرمی کی جانب سے افغان طالبان فورسز کے غیر اشتعال انگیز حملوں کا بھرپور جواب دینے پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

وزیر داخلہ نے ایک بیان میں کہا کہ افغان فورسز کی جانب سے شہری آبادی پر فائرنگ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، پاکستان کی بہادر افواج نے فوری اور مؤثر جواب دیا ہے۔ کوئی اشتعال برداشت نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی فورسز چوکس ہیں اور افغانستان کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جارہا ہے، پاکستان کے عوام اپنی بہادر افواج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہیں، افغانستان کو بھی وہی جواب دیا جائے گا جو بھارت کو دیا گیا تھا۔

پاک افغان سرحد پر افغان فورسز کی بلااشتعال فائرنگ پر سعودی عرب کا سرحدی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار

سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی علاقوں میں حالیہ جھڑپوں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی پر سعودی عرب کو گہری تشویش ہے۔

بیان میں دونوں ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ کشیدگی میں اضافے سے گریز کرتے ہوئے، تحمل، حکمت اور بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں تاکہ خطے میں امن و استحکام قائم رکھا جا سکے۔

سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ہر اُس علاقائی اور عالمی کوشش کی حمایت کرتا ہے جو خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دے، بالخصوص پاکستان اور افغانستان کے عوام کے بہتر مستقبل کے لیے۔

بیان کے مطابق سعودی عرب خطے میں امن و سلامتی کو یقینی بنانے کا خواہاں ہے اور امید رکھتا ہے کہ برادر ممالک پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات بہتر ہوں گے تاکہ دونوں قومیں ترقی اور خوشحالی کی جانب بڑھ سکیں۔

4 اکتوبر 2025

پی آئی اے کا 25 اکتوبر سے برطانیہ کے لئے آپریشن کا باضابطہ اعلان

قومی ایئر لائن پی آئی اے کے برطانیہ کیلئے فلائٹ آپریشن کا آغاز 25 اکتوبر سے ہوگا جبکہ پی آئی اے پہلے مرحلے میں اسلام سے مانچسٹر کیلئے ہفتہ وار 2 پروازیں آپریٹ کرے گی۔

برطانوی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے فارن ائیرکرافٹ آپریٹنگ پرمٹ جاری کردیا۔

برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کا کہناہے کہ یہ آخری دستاویز تھی جو دونوں ملکوں میں کمرشل پروازوں کے لیے درکار تھی۔

ہائی کمیشن کے مطابق پہلے مرحلے میں مانچسٹر کے لیے پروازیں بحال ہوں گی جب کہ دوسرے مرحلے میں برمنگھم اور لندن کو بھی آپریشن میں شامل کیا جائے گا۔

ترجمان پی آئی اے کے مطابق پروازیں ہفتے اور منگل کے روز آپریٹ ہوں گی، اسلام آباد سے شیڈول کے مطابق پی آئی اے کی پرواز 12 بجے روانہ ہوگی اور شام 5 بجے مانچسٹر پہنچے گی، مانچسٹر سے پرواز شام 7 بجے روانہ ہوگی اور صبح 7 بجے اسلام آباد پہنچے گی۔

ترجمان نے کہا کہ مانچسٹر کی پروازوں میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا اور دوسرے مرحلے میں لندن کی پروازیں بھی شروع کی جائیں گی، پروازیں بکنگ کیلئے کھول دی گئی ہیں اور انتہائی موزوں کرایہ متعارف کرایا گیا ہے۔

پی آئی اے ترجمان کے مطابق اب ہمارے ہم وطن 15 گھنٹے کی مسافت کے بجائے صرف 8 گھنٹوں میں اپنی منزل پر پہنچ جائیں گے، 5 سال کے عرصے بعد پی آئی اے دوبارہ سے یہ روٹ شروع کرنے پر بہت پُرجوش ہے۔

ترجمان کے مطابق ہمارا نصب العین ہے کہ ہم مسافروں کو انتہائی آرام دہ اور تمام تر سہولیات سے مزین سفری سہولیات مہیا کریں۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ مشکل وقت ختم ہو رہا ہے، 25 اکتوبر سے اسلام آباد سے مانچسٹر کیلئے پی آئی اے کی دو ہفتہ وار پروازوں کا آغاز کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی آئی اے پر پی ٹی آئی حکومت کے دور میں جو پابندیاں لگیں، اب وہ ختم ہونے جا رہی ہیں۔

2 اکتوبر 2025

غزہ کی جانب امید کا سفر، اسرائیلی جارحیت کی زد میں ، صمود فلوٹیلا پر حملہ، سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سمیت 200 سے زائد امدادی کارکنا ن  گرفتار

غزہ کے ساحل پر بیٹھے معصوم فلسطینی بچے صمود فلوٹیلا کا انتظار کرتے رہ گئےاور رات کی تاریکی میں اسرائیلی فوج نے 40 سے زائد کشتیوں پر مشتمل گلوبل صمودفلوٹیلا کو گھیرے میں لیا اور کئی کشتیوں پر پانی کی توپیں چلائیں۔فلوٹیلا منتظمین کے مطابق اسرائیلی فوجی ایک جہاز میں داخل ہوئے اور جہاز پر سوار تمام ارکان کو حراست میں لے لیا۔

گلوبل صمود فلوٹیلا کیا ہے؟

جولائی 2025 میں ترکی کے ساحل سے روانہ ہونے والا “گلوبل صمود فلوٹیلا” اب تک کا سب سے بڑا شہری بحری مشن تھا، جس کا مقصد اسرائیل کے غیر قانونی محاصرے کو توڑ کر غزہ کے مظلوم عوام تک انسانی امداد پہنچانا تھا۔ اس مشن میں 44 ممالک سے 500 سے زائد افراد شامل تھے، جن میں ڈاکٹرز، وکلاء، فنکار، ماہی گیر، اراکین پارلیمنٹ، اور انسانی حقوق کے کارکن شامل تھے۔ مشن میں شامل شخصیات میں سویڈن کی معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ، اقوام متحدہ کے سابق نمائندے پروفیسر رچرڈ فالک، اور کولمبیا کے صدر گوستاو پیٹرو بھی شامل تھے۔ پاکستان کی نمائندگی جماعت اسلامی کےسابق سینیٹر مشتاق احمد خان کر رہے تھے، جنہوں نے روانگی سے قبل اپنے ویڈیو پیغام میں کہا، “ہم موت سے آگے اور موت ہمارے پیچھے ہے، الحمدللہ ہم اللہ کی مدد سے غزہ پہنچ کے رہیں گے۔”

مشتاق احمد خان کون ہیں ؟

مشتاق احمد خان خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے ایک سرگرم سیاستدان ہیں، جنہوں نے 2018 سے 2024 تک سینیٹ میں خدمات انجام دیں۔ وہ جماعت اسلامی کے نظریاتی اور عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار رہنما سمجھے جاتے ہیں۔ سینیٹ میں اپنی مدت کے دوران انہوں نے فلسطین، کشمیر، اور انسانی حقوق کے مسائل پر بھرپور آواز بلند کی۔ ان کی تقاریر میں ہمیشہ مظلوموں کے حق میں عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی گئی۔ فوٹیلا میں ان کی شرکت نہ صرف ایک علامتی اقدام تھی بلکہ پاکستان کی طرف سے فلسطینی عوام کے ساتھ عملی یکجہتی کا اظہار بھی تھا۔

پاکستان میں غزہ اور فلسطین کے حق میں جدوجہد

پاکستان میں غزہ کے حوالے سے عوامی سطح پر بھی گہری ہمدردی اور حمایت پائی جاتی ہے۔ مختلف شہروں میں فلسطینی عوام کے حق میں ریلیاں نکالی گئیں، دعائیہ اجتماعات منعقد ہوئے، اور سوشل میڈیا پر “فری فلسطین” مہم نے زور پکڑا۔ جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام، اور دیگر مذہبی و سماجی تنظیموں نے اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز بلند کی، جبکہ انسانی حقوق کے کارکنان نے اقوام متحدہ اور عالمی اداروں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔

گلوبل صمود فلوٹیلا کا قافلہ کب روانہ ہوا

اگست اور ستمبر میں دنیا بھر سے درجنوں کشتیوں پر مشتمل یہ قافلہ غزہ کی جانب روانہ ہوا، جسے “گلوبل مارچ ٹو غزہ”، “صمود قافلہ”، “صمود نوسانتارا”، اور “فریڈم فلوٹیلا کولیشن” جیسے تاریخی اقدامات کا تسلسل قرار دیا گیا۔ شرکاء نے مختلف بندرگاہوں سے روانہ ہو کر سمندری راستے سے ایک انسانی راہداری قائم کرنے کی کوشش کی، تاکہ ادویات اور خوراک غزہ کے نہتے اور بھوک پیاس سے نڈھال شہریوں تک پہنچائی جا سکے۔

تاہم، غزہ کے قریب پہنچنے پر اسرائیلی افواج نے فوٹیلا پر حملہ کر دیا۔ اسرائیلی نیوی نے کشتیوں کو گھیر کر ڈرونز اور کمانڈوز کے ذریعے کارروائی کی، جس کے نتیجے میں متعدد امدادی کارکنوں کو زدوکوب کیا گیا اور گرفتار کر کے اسرائیل منتقل کر دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق سینیٹر مشتاق احمد خان سمیت 200 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا گیا، جن کا رابطہ منقطع ہو گیا۔

فلوٹیلا پر حملے کے بعد دنیا بھر میں احتجاج

پاکستان میں اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا، وزیر اعظم پاکستان شہبازشریف نے اسرائیل کی جانب سے غزہ امداد لیکر جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حراست میں لیے گئے تمام افراد کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

جبکہ عالمی سطح پر اس حملے کی مذمت کی گئی۔ اقوام متحدہ کے نمائندوں نے اسرائیلی کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا، اور کئی ممالک نے اسرائیل سے وضاحت طلب کی۔

گلوبل صمود فلوٹیلا کی کال پر یونان، اٹلی ، ترکیہ سمیت مختلف ممالک میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے ، مظاہرین نے صمود فلوٹیلا کے گرفتار کارکنان کے حق میں نعرے بازی اور تمام امدادی کارکنان کی فوری رہائی کا مطالبہ کردیا

یہ حملہ نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین پامالی تھا بلکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے والا واقعہ بھی بن گیا۔ گلوبل صمود فلوٹیلا اب ایک علامت بن چکاہے — ایک ایسی علامت جو عالمی بیانیے کو بدلنے، بین الاقوامی خاموشی کو چیلنج کرنے، اور فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کا ذریعہ ہے

1 ستمبر 2025

بھارت نے ٹیرف ختم کرنے کی پیشکش کی، لیکن بہت دیر ہو چکی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن ( ڈبلیو ٹی این مانیٹرنگ ) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا ہے کہ بھارت نے امریکی مصنوعات پر عائد ٹیرف (محصولات) کو صفر کرنے کی پیشکش کی ہے، تاہم ان کے بقول یہ اقدام اب بہت دیر سے کیا گیا ہے۔

بھارتی سفارت خانے نے واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے  اس بیان پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا،

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر لکھا کہ بھارت کے ساتھ ہمارا تعلق ہمیشہ ایک طرفہ رہا ہے۔ اب انہوں نے ہمارے سامان پر ٹیرف ختم کرنے کی پیشکش کی ہے، لیکن اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ انہیں یہ برسوں پہلے کر دینا چاہیے تھا۔

ٹرمپ کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ کی جانب سے بھارتی درآمدات پر 50 فیصد تک کے محصولات نافذ کیے جا چکے ہیں۔ یہ اقدام روس سے بھارتی تیل کی بڑے پیمانے پر خریداری پر بطور سزا کیا گیا ہے۔ یہ امریکہ کی ان کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد روس پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ یوکرین میں جاری جنگ کو ختم کرے۔

امریکا بھارت تعلقات میں بگاڑ

بھارت اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں واضح تناؤ آ چکا ہے۔ گزشتہ ہفتے بھارت سے امریکہ آنے والی کئی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیکس لاگو ہوا ہے، جس کے بعد بھارت نے ان اقدامات کو “غیر منصفانہ، بلاجواز اور غیر معقول قرار دیا ہے۔

صدر ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد، انہوں نے ٹیرف کو ایک وسیع تر پالیسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، جس سے عالمی تجارت متاثر ہو رہی ہے۔

بھارت کا چین اور روس کی طرف جھکاؤ

ان تجارتی کشیدگیوں کے دوران، بھارت نے چین اور روس کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کیے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اس وقت چین کے شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم ایس سی او کے سربراہی اجلاس میں شریک ہیں، جہاں انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی ہے۔

تجارتی مذاکرات میں رکاوٹیں

امریکہ اور بھارت کے درمیان زرعی اور ڈیری مصنوعات پر تجارتی مذاکرات تعطل کا شکار ہو چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ امریکی زرعی مصنوعات کو بھارتی منڈی تک زیادہ رسائی حاصل ہو۔ جبکہ وزیراعظم مودی بھارتی کسانوں کے مفادات کا دفاع کر رہے ہیں، جو ملک کی ایک بڑی ووٹر بیس ہیں۔

2024 میں امریکہ بھارت کا سب سے بڑا برآمدی بازار تھا، جہاں بھارت نے 87.3 ارب ڈالر کی اشیاء برآمد کیں۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 50 فیصد ڈیوٹی دراصل تجارتی پابندی کے مترادف ہے اور اس سے چھوٹی بھارتی کمپنیاں سب سے زیادہ متاثر ہوں گی۔

ٹیکسٹائل، سمندری غذا (سی فوڈ)، اور زیورات برآمد کرنے والوں نے امریکی آرڈرز منسوخ ہونے اور بنگلہ دیش اور ویتنام جیسے ممالک کو نقصان ہونے کی شکایت کی ہے، جس سے بڑے پیمانے پر ملازمتوں کے خاتمے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

1 ستمبر 2025

افغانستان میں شدید زلزلہ، 800 سے زائد افراد جاں بحق، 2800 سے زائد زخمی

کابل ( ڈبلیو ٹی این مانیٹرنگ ) افغانستان کے ایک دور دراز اور پہاڑی علاقے میں شدید زلزلے اور متعدد جھٹکوں کے بعد سینکڑوں مکانات منہدم ہو گئے، جس کے نتیجے میں 800 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ طالبان حکام کے مطابق، پیر کے روز بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن جاری تھا۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق، زلزلہ سطح زمین سے محض 8 کلومیٹر کی گہرائی میں آیا اور اس کا مرکز ننگرہار صوبے کے شہر جلال آباد سے 27 کلومیٹر دور تھا۔

ننگرہار اور کنڑ صوبے پاکستان کے ساتھ سرحد پر واقع ہیں، جہاں طورخم بارڈر سے بڑی تعداد میں افغان مہاجرین واپس آ چکے ہیں، جن کے پاس اکثر روزگار یا رہائش کی سہولت نہیں ہوتی۔

زلزلے کی شدت اور مقام

زلزلہ رات گئے آیا، جس کے جھٹکے کابل سے لے کر پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد تک محسوس کیے گئے۔ ابتدائی زلزلے کے بعد پانچ جھٹکے مزید آئے، جن میں سب سے شدید جھٹکا 5.2 شدت کا تھا جو رات 4 بجے کے قریب آیا۔

زلزلے سے جانی و مالی نقصان

طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق، زلزلے سے سب سے زیادہ متاثرہ مشرقی صوبہ کنڑ میں 800 سے زائد افراد جاں بحق اور 2,500 زخمی ہوئے۔ ننگرہار میں مزید 12 افراد جاں بحق اور 255 زخمی ہوئے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانع نے بتایا کہ بہت سے مکانات تباہ ہو گئے ہیں۔ افغانستان میں اکثر لوگ کچے اور مٹی کے مکانوں میں رہتے ہیں جو زلزلے کی صورت میں آسانی سے گر جاتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی ادارہ برائے ہجرت  کے مطابق، کنڑ کے کئی شدید متاثرہ دیہات تک سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے رسائی ممکن نہیں۔افغان سرکاری خبر رساں ایجنسی بختار نے قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے کے حوالے سے بتایا کہ نورگل، چوکئی، واتاپور، منوگئی، اور چپہ درہ سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں شامل ہیں۔

افغان حکام کے مطابق کنڑ صوبے میں تین دیہات مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹ گئے جبکہ دیگر علاقوں میں بھی وسیع پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔

ریسکیو آپریشن

طالبان حکام اور اقوام متحدہ نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ وزارت دفاع کے مطابق، اب تک 40 فضائی پروازیں (فلائٹ سورٹیز) کی جا چکی ہیں۔

کنڑ کے ضلع نورگل کے زراعت کے محکمے کے ایک ملازم اعجاز الحق یاد نے بتایا کہ لوگ سڑکیں کھولنے کے لیے خود نکلے تاکہ متاثرہ علاقوں تک رسائی ممکن ہو۔ “خوف و ہراس کی کیفیت تھی، بچے اور خواتین چیخ رہے تھے، ہم نے اپنی زندگی میں ایسا منظر نہیں دیکھا۔”

ان کا کہنا تھا کہ زلزلے سے متاثرہ کئی خاندان وہی افغان مہاجرین ہیں جو حالیہ برسوں میں ایران اور پاکستان سے وطن واپس آئے ہیں اور یہاں نئے سرے سے زندگی شروع کر رہے تھے۔

عالمی برادری کی مذمت اور مدد

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، انہوں نے کہا کہ میں افغان عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہوں۔

یورپی یونین نے سابق ٹوئٹر ایسک پر بیان میں کہا کہ ہم افغانستان کے کنڑ اور ننگرہار میں زلزلے سے متاثرہ افراد کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ ہمارے انسانی ہمدردی کے شراکت دار متاثرہ افراد کو مدد فراہم کر رہے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ کابل سمیت پاکستان کے کئی حصوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ سینکڑوں جانیں ضائع ہو گئیں اور دیہات تباہ ہوئے، ہماری دعائیں متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔ پاکستان ہر ممکن مدد کے لیے تیار ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے بھی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے لیے دعا کی اور کہا کہ پاکستان افغان عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی میں کھڑا ہے۔

افغانستان اور زلزلوں کی تاریخ

افغانستان میں زلزلے عام ہیں، خاص طور پر ہندوکش کے پہاڑی سلسلے میں، جو یوریشیائی اور بھارتی ٹیکٹونک پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہے۔اکتوبر 2023 میں مغربی صوبہ ہرات میں 6.3 شدت کے زلزلے سے 1,500 سے زائد افراد جاں بحق اور 63,000 مکانات تباہ یا متاثر ہوئے تھے۔

جون 2022 میں پکتیکا صوبے میں 5.9 شدت کے زلزلے نے 1,000 سے زائد افراد کی جان لے لی تھی اور ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے تھے۔

گزشتہ چار دہائیوں کی جنگ سے تباہ حال افغانستان پہلے ہی شدید انسانی بحرانوں کا شکار ہے۔ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد غیر ملکی امداد میں کمی آ گئی ہے، جس سے آفات سے نمٹنے کی صلاحیت مزید کمزور ہو گئی ہے۔