امریکہ-ایران معاہدہ: جنگ، آبنائے ہرمز اور عالمی معیشت کی مکمل کہانی

فہرستِ مضامین

تحریر: فہمیدہ ریاض

پچھلے چند ماہ سے آپ امریکہ، ایران، آبنائے ہرمز اور جنگ بندی کی خبریں سن رہے ہوں گے۔ لیکن اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اصل میں ہوا کیا ہے اور یہ معاہدہ دنیا کے لیے کیوں اہم ہے، تو آئیے اسے آسان زبان میں سمجھتے ہیں۔

تین ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے بعد امریکہ اور ایران ایک ایسے معاہدے پر متفق ہوئے ہیں جسے خطے میں امن کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس معاہدے پر رواں ہفتے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں باضابطہ دستخط کیے جانے کا امکان ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ یہ تنازع شروع کیسے ہوا، معاہدے میں کیا شامل ہے اور اس کے اثرات کیا ہو سکتے ہیں؟
فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران پر حملے کیے۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی مفادات کو نشانہ بنایا۔
چند ہی دنوں میں یہ تنازع ایران اور اسرائیل تک محدود نہ رہا بلکہ لبنان بھی اس کی لپیٹ میں آ گیا۔ لبنان میں ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جھڑپوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔
اسی دوران ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مضبوط کر دی۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے تقریباً بیس فیصد عالمی تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس راستے میں رکاوٹ کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں اور توانائی کا بحران پیدا ہو گیا۔
اب بات کرتے ہیں اس معاہدے کی۔
دونوں ممالک اور ثالثی کرنے والے ممالک کے بیانات کے مطابق معاہدے کے اہم نکات میں تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی، لبنان میں جاری لڑائی کا خاتمہ، آبنائے ہرمز کو عالمی جہازرانی کے لیے دوبارہ کھولنا، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، ایران کے جوہری پروگرام پر مستقبل کے مذاکرات اور ایران کے منجمد اثاثوں کی مرحلہ وار واپسی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ آئندہ ساٹھ دنوں کے دوران ایک حتمی اور جامع معاہدے کے لیے مذاکرات بھی جاری رہیں گے۔
سادہ الفاظ میں، دونوں فریق پہلے جنگ روکنے اور بعد میں پیچیدہ معاملات پر مذاکرات کرنے پر متفق ہوئے ہیں۔
اس معاہدے کا ایک اہم پہلو پاکستان کا سفارتی کردار بھی ہے، جس نے قطر کے ساتھ مل کر ایران اور امریکہ کے درمیان رابطوں اور مذاکرات میں سہولت فراہم کی۔ اسی وجہ سے اس پیش رفت کو پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کو بھی سفارتی کوششوں میں تعاون پر سراہا گیا ہے۔
ایران نے شروع سے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اگر کوئی معاہدہ ہوگا تو اس میں لبنان بھی شامل ہونا چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حزب اللہ ایران کا ایک اہم اتحادی ہے اور گزشتہ کئی ماہ سے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی میں مصروف ہے۔
لبنان میں بہت سے لوگ اس معاہدے کو امید کی نظر سے دیکھ رہے ہیں، تاہم صورتحال اب بھی مکمل طور پر واضح نہیں۔ بعض اسرائیلی رہنماؤں نے معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل اپنی سکیورٹی پالیسیوں پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
دوسری جانب ایک بڑا مسئلہ ایران کا جوہری پروگرام بھی ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی کئی برسوں سے یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے اور اس کے بدلے میں اسے اقتصادی پابندیوں سے نجات ملنی چاہیے۔
یہ نیا معاہدہ اس تنازع کو فوری طور پر حل نہیں کرتا، بلکہ آئندہ ساٹھ دنوں کے دوران دونوں فریق اس معاملے پر تفصیلی مذاکرات کریں گے۔
یہ معاہدہ صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی بحالی سے عالمی تیل کی سپلائی معمول پر آ سکتی ہے، جس سے ایندھن کی قیمتوں میں استحکام آنے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے پھیلنے کا خطرہ بھی کم ہو سکتا ہے۔
اگر یہ معاہدہ کامیاب رہتا ہے تو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت کو بھی اس کے مثبت اثرات حاصل ہو سکتے ہیں۔
فی الحال تو بندوقیں خاموش ہوتی دکھائی دے رہی ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ جنگ بندی مستقل امن میں تبدیل ہو سکے گی؟ اس کا جواب آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں سامنے آئے گا۔
اگر دونوں فریق اپنے وعدوں پر قائم رہے تو یہ معاہدہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک نئے اور نسبتاً پُرامن دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں