فیفا ورلڈ کپ میں ایران کا کونسا پرچم لہرایا جائے، امریکی عدالت کا بڑا فیصلہ

فہرستِ مضامین

امریکی عدالت نے فٹبال ورلڈ کپ کے دوران ایران کے سابق شاہی دور سے منسلک پرچم کے استعمال کے خلاف اہم فیصلہ سناتے ہوئے فیفا کی جانب سے عائد پابندی کو برقرار رکھنے کا حکم دے دیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق لاس اینجلس کاؤنٹی کی عدالت میں دائر مقدمے کی سماعت کے بعد عدالت نے قرار دیا کہ ورلڈ کپ میچز کے دوران اسٹیڈیمز میں صرف اسلامی جمہوریہ ایران کا موجودہ اور سرکاری قومی پرچم ہی لہرایا جا سکے گا، جبکہ سابق ایرانی شاہ کے دور سے وابستہ پرچم کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں فیفا کے اس مؤقف کی حمایت کی کہ بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں میں رکن ممالک کی نمائندگی صرف ان کے تسلیم شدہ سرکاری قومی پرچموں کے ذریعے ہونی چاہیے تاکہ سیاسی اور نظریاتی تنازعات سے گریز کیا جا سکے۔

یہ مقدمہ ان افراد اور گروہوں کی جانب سے دائر کیا گیا تھا جو ایران کے سابق شاہی نظام سے وابستہ تاریخی پرچم کو ثقافتی اور قومی شناخت کی علامت قرار دیتے ہیں۔ درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ انہیں اس پرچم کو اسٹیڈیمز میں لہرانے کی اجازت دی جانی چاہیے، تاہم عدالت نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے فیفا کے ضابطوں کو ترجیح دی۔

عدالتی فیصلے کے مطابق ورلڈ کپ سمیت فیفا کے زیر اہتمام تمام بین الاقوامی مقابلوں میں ایران کی نمائندگی صرف موجودہ سرکاری پرچم کے ذریعے کی جائے گی اور کسی متبادل یا تاریخی پرچم کو سرکاری شناخت کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔

واضح رہے کہ ایران کے سابق شاہی دور کا پرچم موجودہ ایرانی پرچم سے کافی حد تک مشابہت رکھتا ہے، تاہم اس میں “شیر اور سورج” کا تاریخی نشان شامل ہوتا ہے۔ یہ علامت 1979 کے ایرانی انقلاب سے قبل شاہی حکومت کی نمائندہ سمجھی جاتی تھی۔ انقلاب کے بعد ایران میں اسلامی جمہوریہ کے قیام کے ساتھ ہی اس نشان کو ختم کرکے موجودہ قومی پرچم متعارف کرایا گیا تھا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق عدالت کا یہ فیصلہ نہ صرف کھیلوں کے میدان میں سرکاری قومی علامات کے استعمال سے متعلق ایک اہم نظیر قائم کرتا ہے بلکہ ایران سے متعلق سیاسی اور تاریخی تنازعات کے تناظر میں بھی خاص اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں