ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ مکہ معاہدے میں شامل کسی ایک فریق پر حملہ ہوا تو معاہدے میں شامل تینوں ممالک مل کر لائحہ عمل طے کریں گے اور اسی کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دفاعی معاہدوں کے تحت ردعمل کا طریقہ کار عام طور پر عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا جاتا، کیونکہ فوجی کارروائیوں اور سکیورٹی سے متعلق معلومات حساس اور خفیہ ہوتی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ مکہ معاہدہ دفاعی تعاون پر مبنی ہے اور اس میں کوئی جارحانہ پہلو نہیں۔ ان کے مطابق معاہدے کا مقصد خطے میں امن اور استحکام کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تعلقات نئے نہیں بلکہ تاریخی اور گہرے ہیں، جنہیں اب باقاعدہ دفاعی تعاون کے معاہدے کی شکل دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک کے چین کے ساتھ بھی بہترین تعلقات ہیں۔ پاکستان کے چین کے ساتھ انتہائی اہم اور اسٹریٹجک تعلقات ہیں اور چین سمیت دنیا اس خطے کے ممالک کے باہمی تعلقات کی نوعیت سے آگاہ ہے۔
بھارت کے دفاعی اخراجات پر بھی بات
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت اپنی فوجی طاقت میں اضافے کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل خرچ کر رہا ہے، جبکہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتیں خالصتاً دفاعی نوعیت کی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کسی اسلحے کی دوڑ میں شامل نہیں اور نہ ہی کسی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی دفاعی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے اور وہ اپنے دفاع کے ساتھ ساتھ دشمن کو جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
سیاسی مقاصد طے کرنا سیاسی قیادت کا اختیار ہے
سیاسی اہداف سے متعلق سوال پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ملک کے سیاسی مقاصد سیاسی قیادت طے کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فوج اور ریاست کے الگ الگ اہداف نہیں ہیں، جبکہ پاکستان کے مقاصد اور خواہشات کا تعین سیاسی قیادت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
افغانستان دہشت گردی کا مرکز نہ بنے: ڈی جی آئی ایس پی آر
افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹس میں افغانستان میں موجود متعدد دہشت گرد تنظیموں کا ذکر کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ افغانستان کو دہشت گردی کا مرکز نہیں بننا چاہیے اور افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
ان کے مطابق پاکستان کا بنیادی مطالبہ یہی ہے کہ افغانستان سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی نہ کی جائے۔
ایران، امریکا کشیدگی میں ثالثی کی پیشکش
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا حامی ہے اور اسی پالیسی کے تحت ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ تمام دوست ممالک کے ساتھ کثیرالجہتی تعلقات اور روابط کی پالیسی کے باعث پاکستان کو ایک منفرد مقام حاصل ہے، جس کی بنیاد پر وہ امن کے لیے غیر جانب دار اور دیانت دار ثالث کا کردار ادا کرسکتا ہے۔