پاکستان نے سوڈان کو ہتھیاروں اور جنگی طیاروں کی فراہمی کے لیے طے پانے والے تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کے معاہدے کو فی الحال روک دیا ہے۔ سکیورٹی اور سفارتی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب سعودی عرب نے اس معاہدے کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور واضح کیا کہ وہ اس خریداری کے لیے مالی معاونت فراہم نہیں کرے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت نے خطے میں جاری سفارتی توازن کو متاثر کیا ہے، جبکہ پاکستان نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے معاہدے کو عارضی طور پر معطل رکھا ہے۔
دوسری جانب سوڈان میں فوج اور نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جاری خونریز تصادم نے گزشتہ تقریباً تین برس سے شدید انسانی بحران کو جنم دے رکھا ہے۔ یہ تنازع اب عالمی سطح پر مختلف طاقتوں کے مفادات کی کشمکش کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بحیرۂ احمر کے اہم ملک سوڈان، جو سونے کی پیداوار کے حوالے سے بھی نمایاں حیثیت رکھتا ہے، اس طویل کشیدگی کے باعث ٹوٹ پھوٹ کے خطرے سے دوچار ہے، جس کے خطے پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔