کراچی: سندھ اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم-پی) کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر طحہ احمد خان نے صوبے میں ایچ آئی وی کے کیسز میں تیزی سے اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ کو خط لکھ دیا ہے۔
اپنے خط میں طحہ احمد خان نے کہا کہ 2026 کے پہلے تین ماہ کے دوران صوبے بھر میں ایچ آئی وی کے 894 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے، جو صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بچوں میں بڑھتے ہوئے کیسز طبی نظام میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں، جن میں سرنجوں کا دوبارہ استعمال، جراثیم کشی کے ناقص انتظامات اور خون کی مناسب اسکریننگ میں کوتاہیاں شامل ہیں۔
طحہ احمد خان کے مطابق یہ صرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ حکومتی غفلت، کمزور نگرانی اور انتظامی ناکامی کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے پر شفاف اور مقررہ وقت میں مکمل ہونے والی انکوائری کی جائے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے غیر رجسٹرڈ اور غیر معیاری کلینکس، لیبارٹریز اور بلڈ بینکس کے خلاف صوبہ بھر میں کریک ڈاؤن کا بھی مطالبہ کیا۔
ایم کیو ایم رہنما نے مزید کہا کہ انفیکشن کنٹرول کے اصولوں پر سختی سے عملدرآمد اور خون کی لازمی اسکریننگ کو یقینی بنایا جائے، جبکہ عوام میں آگاہی مہم بھی فوری طور پر شروع کی جائے تاکہ اس مرض کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
انہوں نے متاثرہ افراد، خصوصاً بچوں کے لیے علاج کی سہولیات کی فوری اور بلا تعطل فراہمی پر بھی زور دیا۔
اپنے بیان کے اختتام پر طحہ احمد خان نے کہا کہ شہریوں، بالخصوص بچوں کو اس طرح کے مہلک خطرات کے سامنے چھوڑنا ناقابل قبول ہے اور حکومت کو فوری اقدامات کرنا ہوں گے