امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی سرگرمیاں تیزی اختیار کر گئی ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان کسی بڑے معاہدے کی پیش رفت کے اشارے سامنے آ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جاری رابطوں نے یہ تاثر دیا ہے کہ فریقین اختلافات کم کر کے کسی مشترکہ نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے قبل ایک اور اہم براہِ راست ملاقات متوقع ہے، جبکہ پسِ پردہ بات چیت مختلف چینلز کے ذریعے جاری ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات کا سلسلہ گزشتہ دور کے اختتام کے بعد بھی نہیں رکا اور مسلسل سفارتی رابطے برقرار رکھے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق اصل کوشش یہ ہے کہ دونوں جانب کے مؤقف میں ہم آہنگی پیدا کی جائے تاکہ ایک ایسے جامع معاہدے کی بنیاد رکھی جا سکے جو جاری کشیدگی کا مستقل حل فراہم کرے۔ اگرچہ زیادہ تر بات چیت بالواسطہ ذرائع سے ہوئی، تاہم کچھ مواقع پر براہِ راست رابطے بھی کیے گئے ہیں، جس سے پیش رفت کی امید بڑھی ہے۔
امریکی انتظامیہ کی خواہش ہے کہ آئندہ ممکنہ ملاقات میں اس مجوزہ معاہدے کو حتمی شکل دی جائے۔ تاہم ذرائع یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ معاہدے کی تفصیلات، خاص طور پر اس کے نفاذ کے طریقہ کار، پر مزید وقت درکار ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں جنگ بندی میں توسیع کا امکان بھی موجود ہے، اگرچہ فی الحال اسے ترجیح نہیں دی جا رہی۔
ادھر اعلیٰ سطح پر بھی رابطے جاری رہے ہیں اور امریکی قیادت کے اہم ارکان نے ایران کے ساتھ پسِ پردہ سفارتی کوششوں میں حصہ لیا ہے۔ تاہم آئندہ مذاکراتی دور کے لیے امریکی وفد کی مکمل تشکیل ابھی سامنے نہیں آئی۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور اسے مثبت قرار دیا جا رہا ہے۔ ترجمان کے مطابق اگلا مذاکراتی مرحلہ اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے، جہاں پاکستان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام نے ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ واشنگٹن نے جنگ بندی میں توسیع کی درخواست کی ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ عرصے میں دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا پہلا مرحلہ اسلام آباد میں ہوا تھا، جو کسی حتمی نتیجے پر تو نہیں پہنچ سکا، تاہم اس کے باوجود عارضی جنگ بندی برقرار ہے اور سفارتی عمل آگے بڑھ رہا ہے۔