ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے اور ممکنہ جنگ بندی مذاکرات کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں ایک بڑا معاشی تنازع دوبارہ سامنے آ گیا ہے، جس کا مرکز ایران کے وہ اربوں ڈالر ہیں جو مختلف ممالک میں منجمد (freeze) کیے گئے ہیں۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی سنجیدہ مذاکراتی پیش رفت سے پہلے ان رقوم تک رسائی بحال کی جانی چاہیے۔
ایرانی مؤقف کے مطابق یہ منجمد اثاثے ملک کی تباہ حال معیشت کی بحالی اور بنیادی اقتصادی ڈھانچے کی مرمت میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ طویل عرصے سے جاری پابندیوں نے ایران کی تیل آمدن اور بیرونی مالی لین دین کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے باعث ملک اپنے ہی وسائل تک رسائی سے محروم رہا ہے۔
مذاکرات سے پہلے مالی شرط
امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے دوسرے مرحلے سے قبل یہ مسئلہ مزید اہم ہو گیا ہے۔ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے چند روز قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ جب تک ایران کے منجمد مالی وسائل بحال نہیں کیے جاتے، کسی بھی مذاکراتی پیش رفت کا آغاز ممکن نہیں۔
یہ وہی مؤقف ہے جو تہران نے پہلے بھی مختلف سفارتی مواقع پر دہرایا ہے کہ پابندیوں کے خاتمے اور رقوم کی واپسی کے بغیر کسی معاہدے کی بنیاد مضبوط نہیں ہو سکتی۔
منجمد اثاثوں کی مالیت اور اہمیت
معاشی ماہرین اور ایرانی ذرائع کے مطابق بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی مجموعی مالیت 100 ارب ڈالر سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے۔ یہ رقم ایران کی سالانہ توانائی برآمدات سے کئی گنا زیادہ ہے اور ملک کی معیشت کے لیے ایک بڑا سہارا ثابت ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ رقوم ایران کی کرنسی کے استحکام، مہنگائی پر قابو پانے اور صنعتی شعبے کی بحالی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک کو شدید معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔
منجمد رقوم کہاں کہاں موجود ہیں؟
رپورٹس کے مطابق یہ اثاثے مختلف ممالک کے بینکوں اور مالیاتی اداروں میں موجود ہیں۔ اندازوں کے مطابق:
چین میں تقریباً 20 ارب ڈالر سے زائد
عراق میں تقریباً 6 ارب ڈالر
جاپان میں قریب 1.5 ارب ڈالر
بھارت میں تقریباً 7 ارب ڈالر
امریکہ اور یورپی ممالک میں بھی اربوں ڈالر کی رقوم
اس کے علاوہ قطر میں بھی تقریباً 6 ارب ڈالر موجود ہیں جو پہلے جنوبی کوریا سے منتقل کیے گئے تھے، مگر بعد میں امریکی پابندیوں کے باعث ان تک مکمل رسائی محدود ہو گئی۔
تنازعہ کہاں سے شروع ہوا؟
ایران کے مالی اثاثوں کو پہلی بار 1979 کے بحران کے دوران منجمد کیا گیا تھا، جب تہران میں امریکی سفارتخانے پر قبضے اور یرغمالیوں کے معاملے نے دونوں ممالک کے تعلقات کو شدید بحران میں ڈال دیا تھا۔
بعد ازاں 2015 کے جوہری معاہدے کے دوران کچھ پابندیاں ہٹائی گئیں اور ایران کو محدود مالی رسائی حاصل ہوئی، مگر 2018 میں امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے معاہدے سے علیحدگی کے بعد یہ سہولت دوبارہ ختم کر دی گئی۔
موجودہ صورتحال
حالیہ سفارتی کوششوں کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان قیدیوں کے تبادلے اور محدود مالی ریلیف پر بھی بات چیت ہوئی تھی، لیکن مکمل اثاثوں کی بحالی پر اتفاق نہیں ہو سکا۔
اب جبکہ جنگ بندی اور مذاکرات کے نئے دور کی تیاری ہو رہی ہے، ایران کا کہنا ہے کہ منجمد رقوم کی واپسی اعتماد سازی کا پہلا اور لازمی قدم ہے۔
ماہرین کی رائے
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق اگر یہ رقوم آزاد کی جاتی ہیں تو ایران اپنی معیشت کو تیزی سے مستحکم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے اس فیصلے کو سیاسی شرائط سے جوڑا جا سکتا ہے، جس سے مذاکرات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ معاملہ نہ صرف ایران کی معیشت بلکہ خطے میں جاری سفارتی کشمکش کے مستقبل کا بھی اہم تعین کرنے والا عنصر بن چکا ہے۔