پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایران سے متعلق سفارتی رابطوں اور مذاکراتی عمل کو دوبارہ فعال کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت پاکستان کا ایک اعلیٰ سطح کا سفارتی و عسکری وفد تہران پہنچ گیا ہے۔ وفد کی قیادت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کر رہے ہیں۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ وفد ایسے وقت میں ایران کے دارالحکومت تہران پہنچا ہے جب خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے مختلف سفارتی چینلز سرگرم ہیں۔ پاکستان کے اس دورے کو ان کوششوں میں ایک اہم رابطہ کاری قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ نے ایرانی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ تہران میں ہونے والی اس ملاقات میں ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کی بحالی اور آئندہ لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ رابطے اس وسیع تر سفارتی عمل کا حصہ ہیں جس کا مقصد دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کی فضا بحال کرنا ہے۔
اس سے قبل ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ پاکستان کے ذریعے امریکہ کے ساتھ پیغامات کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کے مطابق اسلام آباد اس وقت ایک اہم سفارتی پل کا کردار ادا کر رہا ہے جو دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنے میں مدد دے رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایرانی قیادت اس پاکستانی وفد کی میزبانی کر رہی ہے اور مذاکرات کے تسلسل، ممکنہ رکاوٹوں اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی مشاورت کی توقع ہے۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ان سفارتی کوششوں کا دوسرا دور آئندہ چند دنوں میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں متوقع ہے، جہاں مزید پیش رفت اور ممکنہ طور پر اعلیٰ سطح کے رابطوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مجموعی طور پر یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی اور سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور پاکستان ایک بار پھر اہم ثالثی کردار کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔