جئے سندھ کی کہانی: گل محمد جکھرانی، قادر مگسی اور زین شاہ کیوں الگ ہوئے؟

فہرستِ مضامین

تحریر شکیل سومرو

جئے سندھ کی قومپرست سیاست میں دھڑے بندی کی تاریخ — ایک تفصیلی صحافتی تجزیہ
جئے سندھ کی سیاست جو سائیں جی ایم سید کے فکری اثرات کے تحت وجود میں آئی، ایک مرتبہ پھر تنظیمی اختلافات، دھڑے بندی اور اندرونی کشمکش کا شکار ہو چکی ہے۔ جس تحریک کی بنیاد فکری اتحاد، قومی شعور اور اجتماعی جدوجہد پر رکھی گئی تھی، وہ آج مختلف گروہوں اور قیادتی تنازعات میں بٹی ہوئی نظر آتی ہے۔
حالیہ رتودیرو کے واقعے کے بعد جئے سندھ قومی محاذ (جے ایس کیو ایم) کے اندر ایک نیا تنظیمی بحران سامنے آیا، جہاں منتخب سینئر وائس چیئرمین آکاش ملاح اور وائس چیئرمین فقیر رمضان کلہوڑو کی قیادت میں مرکزی باڈی کے متعدد عہدیداروں نے چیئرمین صنعان قریشی کے رویے کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے تنظیمی سرگرمیاں معطل کرنے کا اعلان کیا۔ یہ صورتحال تنظیم میں اعتماد کے بحران اور قیادت کے اختلافات کو مزید واضح کرتی ہے۔
اس سے قبل 7 اپریل کو رتوديرو میں شہید بشیر خان قریشی کی برسی کے موقع پر تنظیمی سطح پر شدید اختلافات سامنے آئے، جہاں نعرے بازی اور گروہی تصادم نے تنظیمی اتحاد پر سوالات کھڑے کر دیے۔
جئے سندھ تحریک میں تاریخی تقسیم
جئے سندھ کی موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے اس کے تاریخی پس منظر کو دیکھنا ضروری ہے۔

جي ام سيد ني 18 جون 1972 کو جیئے سندھ محاذ کے نام سے پہلی آزادی پسند جماعت بنائی، جس کے سربراہ وه خود تھے۔ اور جنرل سيکريڻري رئيس غلام مصطفي بهرگڙي تهي. اس کے لیے انہوں نے سائنسی، علمی اور عقلی دلائل پر مبنی اپنا فکری پروگرام پیش کیا، جس میں جمہوریت، سوشلزم، قوم پرستی اور سیکولرازم جیسے بنیادی نکات شامل تھے جو جیئے سندھ محاذ اور اس کی طلبہ تنظیم کے منشور کا حصہ بنے

سید اس پورے عرصے میں اپنی قوم کے نوجوانوں، علماء، ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں پر اثرانداز ہوتے رہے۔ انہوں نے علمی دلائل کے ساتھ کہا کہ سندھ کے لوگ ایک قوم ہیں، ان کی اپنی ثقافت، تاریخ اور وطن ہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے کتابیں لکھیں۔ انہوں ني لطیف کو سندھ کا عظیم مفکر ثابت کیا۔ انہوں نے مذہب اور سیاست، مذہب اور ریاست کی علیحدگی کے لیے سائنسی دلائل دیے اور ریاستی جبر کے تحت مسلط مذہبی شدت پسندی کو رد کیا۔
اس دوران سید کو مسلسل نظر بند رکھا گیا تاکہ ان کی براہ راست عوام تک رسائی نہ ہو سکے۔ لیکن سن میں ان کے مرکز پر چوبیس گھنٹے ان کے پیروکاروں، قومی کارکنوں، علماء، ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں کی نشستیں جاری رہیں۔ ابراہیم جویو، شیخ ایاز، پیر حسام الدین راشدی، نیاز ہمايونی، تنویر عباسی، محمد خان مجیدی، ایم۔ ایچ۔ پنہور، غلام ربانی آگرو، حفیظ قریشی، کریم بخش نظامانی اور علن فقیر، عابدہ پروین، مٹھو کچی سمیت دیگر فنکار اور ادیب اس مرکز سے وابستہ رہے۔
انہوں نے تحریک کی قیادت نوجوان نسل کے حوالے کی۔ تنظیمی طور پر مختلف طلبہ اور مزدور تنظیمیں قائم ہوئیں جنہوں نے تعلیمی اداروں اور دیہی علاقوں تک نیٹ ورک پھیلایا۔

تحریک کے اندر پہلا بڑا اختلاف شاہ محمد شاہ کی قیادت میں سامنے آیا، جس نے پارلیمانی سیاست کی طرف جانے کی بات کی۔ وہ بعد میں مختلف سیاسی اتحادوں کا حصہ بنے۔ بعد میں مختلف گروہ بنے جنہوں نے تنظیمی اختلافات پیدا کیے اور نوجوانوں کو متاثر کیا۔ کچھ نے الزام لگایا کہ سید کے نظریات درست نہیں۔
ان اختلافات کے باعث تحریک میں ٹوٹ پھوٹ ہوئی اور مختلف تنظیمیں بنیں جنہوں نے خود کو الگ راستوں پر ڈال دیا۔ آخرکار قیادت کے اندر مزید اختلافات پیدا ہوئے اور مختلف رہنماؤں نے الگ الگ راستے اختیار کیے۔
بعد کے ادوار میں تنظیمی بحران، اندرونی اختلافات کے باعث تحریک بار بار کمزور ہوتی رہی۔ مختلف گروہوں نے نظریاتی اختلافات کو بڑھایا اور تنظیمی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا۔

سائیں جی ایم سید کی وفات کے بعد ان کے فکری پیروکار مختلف قومپرست دھڑوں کی صورت میں متحد ہو کر جئے سندھ قومی محاذ (جسقم) کے نام سے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوئے۔ مقصد یہ تھا کہ سندھ کی قومپرست سیاست کو ایک مرکزی تنظیم کے تحت منظم کیا جائے۔
ابتدائی دور میں اس تنظیم کے:
چیئرمین: عبدالواحد آریسر
جنرل سیکریٹری: بشیر خان قریشی
منتخب ہوئے، تاہم آغاز سے ہی قیادتی اختلافات اور نظریاتی ٹکراؤ موجود رہے۔
بعد ازاں مختلف رہنماؤں نے تنظیمی پالیسیوں، انتخابی طریقہ کار اور قیادت کے انداز پر سوالات اٹھائے، جس سے اندرونی خلیج بڑھتی گئی۔
ابتدائی اختلافات اور علیحدگی
جئے سندھ محاذ کے رہنما عبدالخالق جوڻيجو نے اس انضمام کی مخالفت کرتے ہوئے اپنی علیحدہ تنظیم برقرار رکھی۔
بعد میں تنظیمی قیادت کے مختلف ادوار میں:
عبدالواحد آریسر
بشیر خان قریشی
سید زین شاہ
قیادت کے مراحل سامنے آئے، لیکن اختلافات ختم نہ ہو سکے۔

قیادت کے مراحل سامنے آئے، لیکن اختلافات ختم نہ ہو سکے۔
نتیجتاً جے ایس کیو ایم مختلف دھڑوں میں تقسیم ہوتی چلی گئی۔
نئی تنظیمی شاخیں
وقت کے ساتھ ساتھ مختلف گروہ وجود میں آئے:
سید زین شاہ نے جے ایس کیو ایم چھوڑ کر جئے سندھ محاذ کو دوبارہ فعال کیا اور اس کے صدر بن گئے۔
عبدالواحد آریسر نے جے ایس کیو ایم آریسر گروپ کے نام سے الگ دھڑا تشکیل دیا۔
بشیر خان قریشی نے اسی نام اور جھنڈے کے تحت اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
بعد ازاں ڈاکٹر صفدر سرکی نے اختلافات کے بعد جئے سندھ تحریک کو بحال کیا۔
اسی طرح ریاض چانڈیو نے بھی جئے سندھ محاذ کے نام سے ایک نیا گروہ تشکیل دیا۔
یوں یہ تحریک ایک متحد سیاسی قوت کے بجائے متعدد چھوٹے دھڑوں میں تقسیم ہو گئی۔
مزید تقسیم اور نیا دھڑا
بعد کے برسوں میں ڈاکٹر نیاز کالانی کی قیادت میں ایک اور بڑا دھڑا اس وقت وجود میں آیا جب تنظیم میں شفاف انتخابات نہ کرانے اور قیادتی غیر شفافیت کے الزامات سامنے آئے۔
انہوں نے “جئے سندھ قومی محاذ شہید بشیر قریشی” کے نام سے نئی تنظیم قائم کی، جس میں بعد میں آصف بالادی جیسے رہنما بھی شامل ہوئے۔
فکری طاقت مگر تنظیمی کمزوری
جئے سندھ کی سیاست کا مجموعی سفر یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ تحریک:
فکری طور پر مضبوط رہی
مگر تنظیمی طور پر کمزور ثابت ہوئی
اور مسلسل قیادتی تنازعات کا شکار رہی
اسی وجہ سے ایک متحد تحریک کے بجائے یہ مختلف دھڑوں اور گروہوں میں بٹتی چلی گئی۔
جئے سندھ کی تاریخ: 1972 سے آج تک
جئے سندھ کی سیاست کی جڑیں 1972 میں جئے سندھ اسٹوڈنٹس فیڈریشن سے جڑی ہوئی ہیں، جو سندھ کی قومپرست طلبہ سیاست کی بنیاد بنی۔
ابتدائی قیادت کے حوالے سے مختلف آرا موجود ہیں، بعض کے مطابق اقبال ترین پہلے صدر تھے جبکہ بعض ذرائع شاہ محمد شاہ اور مدد علی سندھی کو ابتدائی قیادت قرار دیتے ہیں۔
اسی دور میں جئے سندھ کا مشہور “سرخ کلہاڑی والا جھنڈا” بھی سامنے آیا، جس سے اقبال ترین کا نام منسوب کیا جاتا ہے۔

طلبہ سیاست سے سیاسی دھڑوں تک سفر
وقت کے ساتھ کئی رہنما اس تحریک سے نکل کر مختلف قومی اور وفاقی جماعتوں میں شامل ہو گئے، جس سے تنظیمی کمزوری اور تقسیم کا آغاز ہوا۔
نظریاتی اختلافات دو بڑے رجحانات میں تقسیم ہوئے:
سندھ کی مکمل آزادی اور انقلابی جدوجہد
پارلیمانی سیاست اور آئینی جدوجہد
یہی اختلاف بعد میں درجنوں دھڑوں کی بنیاد بنا۔
بڑے سیاسی انشقاقات
جئے سندھ کی سیاست سے مختلف ادوار میں اہم رہنما الگ ہوئے:
ڈاکٹر ارباب کھاوڑ کی قیادت میں بڑا دھڑا الگ ہوا
بعد میں ادریس چانڈیو، جگدیش آہوجا اور فیض پیزارو نے علیحدہ گروہ بنایا
ڈاکٹر قادر مگسی، ڈاکٹر دودو مہیری اور حیدر شاہانی نے سندھ ترقی پسند پارٹی قائم کی
گل محمد جکرانی بعد میں قومی سیاست سے نکل کر مختلف جماعتوں میں گئے
یوں تحریک مسلسل تقسیم ہوتی رہی۔
موجودہ سیاسی حقیقت
آج جئے سندھ کی سیاست میں:
مختلف دھڑے
مختلف قیادتیں
اور مختلف تنظیمی نام
موجود ہیں۔
کچھ رہنما پارلیمانی سیاست میں چلے گئے، کچھ خاموش ہو گئے، اور کچھ فکری طور پر وابستہ رہ کر بھی تنظیمی سیاست سے الگ ہیں۔
نتیجہ: ایک سوال جو باقی ہے
جئے سندھ کی سیاست آج ایک اہم سوال کے سامنے کھڑی ہے:
کیا یہ تحریک دوبارہ تنظیمی اتحاد قائم کر سکے گی؟
یا دھڑے بندی اس کی مستقل سیاسی شناخت بن چکی ہے؟

تارbیخ یہ واضح کرتی ہے کہ نظریات ختم نہیں ہوتے، مگر ان کو زندہ رکھنے کے لیے مضبوط تنظیم، واضح حکمت عملی اور متحد قیادت ناگزیر ہوتی ہے۔
جئے سندھ کی سیاست کے بڑے ناموں میں سید غلام شاہ، سید زین شاہ، روشن بُرڑو اور دیگر رہنما شامل ہیں جنہوں نے جئے سید کی سیاست کو خیرباد کہہ کر سید جی ایم سید کے پوتے، سندھ اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر سید جلال محمود شاہ کی قیادت میں پاکستان کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے پارلیمانی سیاست کرنے والی جماعت سندھ یونائیٹڈ پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔
سید زین شاہ اس وقت ایس یو پی کے مرکزی صدر ہیں۔
جساف اور جئے سندھ کی سیاست کے نمایاں رہنما ڈاکٹر صفدر سرکی اور ڈاکٹر میر عالم مری قوم پرست سیاست سے ریٹائر ہو کر اپنی ذاتی زندگی گزار رہے ہیں۔
شفیع برفت نے جی ایم سید کے عدم تشدد کے فلسفے سے ہٹ کر ایک مختلف راستہ اختیار کیا، ان کی جماعت پر پابندی عائد کی گئی اور حکومت کی جانب سے ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے۔
30 ستمبر کے واقعے کے اسیر صوفی لغاری سندھ ترقی پسند پارٹی کا حصہ رہے اور اس وقت بیرون ملک جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ جئے سندھ کے سرخ کلہاڑی والے جھنڈے اور فکر سے وابستہ ہیں، تاہم کسی تنظیم کا حصہ بننے کے بجائے الگ حیثیت میں سرگرم ہیں۔
جئے سندھ کی سیاست کو خیرباد کہہ کر مختلف سیاسی جماعتوں میں شامل ہونے یا اپنے الگ پلیٹ فارم بنانے والے ایسے کئی رہنما ہیں، جو کبھی اس تحریک کے فعال چہرے تھے، مگر آج یا تو سیاسی منظرنامے سے غائب ہو چکے ہیں یا مرکزی دھارے کی سیاست میں ضم ہو گئے ہیں۔
جو رہنما کبھی جئے سندھ کی شناخت تھے، آج ماضی کا قصہ بن چکے ہیں۔ کچھ گمنامی کی زندگی گزار رہے ہیں، کچھ دنیا سے رخصت ہو گئے اور کچھ نے اپنا سیاسی راستہ بدل لیا ہے۔
ان بڑے ناموں میں گل محمد جکھرانی، ڈاکٹر دودو مہیری، ذوالفقار منگی، نواب لغاری سمیت کئی رہنما پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہو چکے ہیں۔
جساف کی قوم پرست سیاست کا بڑا نام مرحوم ستار موریو بھی آخرکار جئے سندھ کی سیاست چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے تھے۔
30 ستمبر کے اسیر اور سندھ نیشنل پارٹی کے صدر امیر عظیم بھنبھرو بیرون ملک خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
جساف سندھ یونیورسٹی کے سابق جنرل سیکریٹری جام عبدالفتاح سمیجو سندھ ترقی پسند پارٹی کے مرکزی وائس چیئرمین ہیں، جبکہ مشتاق خان رہڑ یو سی چیئرمین کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
30 ستمبر کے ایک اور اسیر ڈاکٹر قدیر میمن قوم پرست سیاست سے لاتعلقی اختیار کر کے سماجی میدان میں سرگرم ہیں۔
گلزار سومرو، ڈاکٹر حمید میمن، ڈاکٹر احمد نوناری اور احسان لغاری سندھ ترقی پسند پارٹی کا حصہ ہیں۔
نورالدین جمالی اور محمد خان شیخ قوم پرست فکر سے وابستہ ہیں مگر کسی تنظیم کا حصہ نہیں ہیں۔
جئے سندھ کی سیاسی جدوجہد کے دوران پہلے لاپتہ ہونے والے ڈاکٹر ادیب انقلابی، باغی بجارانی، سلیمان جتوئی اور خادم سومرو آج بھی قوم پرست فکر سے وابستہ ہیں، مگر کسی تنظیمی ڈھانچے میں شامل نہیں۔
دلشاد بھٹو سینئر اور استاد خالد چانڈیو قوم پرست فکر رکھنے والے دانشور ہیں، تاہم کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں۔
نامور ادیب اور جساف کی طلبہ سیاست کا بڑا نام انعام شیخ سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد ادبی میدان میں سرگرم ہیں۔
ڈاکٹر علی احمد رند، حمید سبزوئی، سہیل میمن، ہمسفر گاڈھی اور دلشاد بھٹو بھی کسی تنظیم کا حصہ بننے کے بجائے صحافتی اور ادبی میدان میں سرگرم ہیں۔
یہ سارا منظر ایک اہم سوال کو جنم دیتا ہے:
کیا جئے سندھ کی سیاست محض شخصیات کے عروج و زوال کی داستان بن چکی ہے، یا یہ فکر آج بھی کسی نئی نسل کی صورت میں زندہ ہے؟
وقت نے ثابت کیا ہے کہ نظریات مرتے نہیں، لیکن انہیں آگے بڑھانے کے لیے منظم قیادت، واضح حکمت عملی اور مشترکہ سیاسی ارادہ ضروری ہوتا ہے۔
جئے سندھ کی سیاست بھی شاید آج اسی موڑ پر کھڑی ہے، جہاں اسے اپنی شناخت، اپنے راستے اور اپنے اتحاد کے بارے میں دوبارہ فیصلہ کرنا ہوگا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں