پاکستانی لڑاکا طیاروں کی سعودی عرب میں موجودگی: کیا یہ کسی بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے؟

فہرستِ مضامین

اسلام آباد: چند روز قبل پاکستانی لڑاکا طیاروں اور فوجی دستوں کا سعودی عرب پہنچنا ایک اہم پیش رفت ہے جو ستمبر 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کے تحت عمل میں لایا گیا ہے۔

سعودی وزارتِ دفاع نے بیان میں کہا کہ پاکستانی دستہ پاکستان فضائیہ کے لڑاکا اور معاون طیاروں پر مشتمل ہے، جو کنگ عبدالعزیز ایئر بیس پر اترا۔ اس اقدام کا مقصد دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان مشترکہ عسکری ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانا، عملی تیاری کے معیار کو بلند کرنا اور علاقائی و بین الاقوامی سطح پر امن و استحکام کے فروغ میں تعاون فراہم کرنا ہے۔

یہ تعیناتی اس وقت سامنے آئی جب 11 اپریل کو اسلام آباد امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی میزبانی کر رہا تھا۔ پاکستان اب بھی فریقین کے درمیان معاہدے تک پہنچنے کے لیے سفارتی اور مذاکراتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور آئندہ دنوں میں مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

سعودی وزارتِ دفاع نے واضح کیا کہ یہ تعیناتی مشترکہ دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے کی گئی ہے۔ ایک پاکستانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا کہ یہ دستے کسی پر حملہ کرنے کے لیے نہیں بھیجے گئے بلکہ دفاعی مقاصد کے لیے ہیں۔

مبصرین کا تجزیہ

مبصرین کے مطابق یہ اقدام سعودی عرب کی پاکستان کے ساتھ بڑھتی قربت اور خطرات کے خلاف اضافی ڈیٹرنس کی ایک نئی سطح کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ معاہدہ سعودی عرب کے واشنگٹن پر یک طرفہ انحصار کو کم کرتے ہوئے اس کے علاقائی سفارتی اور عسکری قد میں اضافہ کرتا ہے۔

سعودی سکیورٹی و سٹریٹجک امور کے ماہر حسن الشہری نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ پاکستانی فوجی دستوں اور لڑاکا طیاروں کی تعیناتی سعودی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتی ہے جس کا مقصد امریکی سکیورٹی ضمانتوں میں تنوع لانا ہے۔ انہوں نے اسے “دانشمندانہ اقدام” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ واشنگٹن کے ساتھ شراکت کو برقرار رکھتے ہوئے پاکستان کے ساتھ متوازی دفاعی حکمت عملی قائم کرتا ہے۔

ان کے بقول، خلیجی ممالک میں امریکی ضمانتوں پر بڑھتے شکوک کے پیش نظر متبادل آپشنز کی تلاش جاری ہے۔ پاکستانی دستوں کی موجودگی ممکنہ حملہ آور کے لیے سعودی عرب پر حملے کی قیمت بڑھا دے گی۔

عرب یوریشین سٹڈیز سینٹر کے محقق ڈاکٹر مصطفیٰ شلش نے اسے بڑے پیمانے پر علامتی اقدام قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سعودی عرب کے دفاع کے لیے پاکستان کے عزم اور اسلام آباد کی اپنے اتحادیوں سے وفاداری کا پیغام دیتا ہے۔ اس نازک وقت میں یہ تعیناتی جنگ میں عملی شرکت کے بجائے علامتی نوعیت کی ہے۔

ڈاکٹر شلش نے پاکستان کی معاشی کمزوری اور خلیجی ممالک پر انحصار کی طرف بھی اشارہ کیا اور اسے حال ہی میں سعودی عرب کی جانب سے تین ارب ڈالر کے اضافی ڈپازٹس سے جوڑا۔

امریکی ماہر کا نقطہ نظر

امریکی دفاعی امور کے ماہر صحافی سیبسٹین روبلن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یمن جنگ میں سعودی کردار جارحانہ نوعیت کا تھا جبکہ موجودہ صورتحال میں یہ ایرانی حملوں کے خلاف دفاعی نوعیت کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب امریکہ کے ساتھ ممکنہ غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر دیگر شراکت داریاں مضبوط کر رہا ہے تاکہ توازن قائم رکھا جا سکے اور واشنگٹن پر دباؤ ڈالا جا سکے۔

تاہم روبلن نے خبردار کیا کہ پاکستانی افواج کی موجودگی ایران کے ساتھ سیاسی حساسیت بڑھا سکتی ہے۔ اگر کسی ایرانی ڈرون حملے میں پاکستانی فوجی ہلاک ہوا تو ایران اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر دونوں ممالک کی مشترکہ سرحد کی وجہ سے۔

تکنیکی ہم آہنگی کے مسائل

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوجی ٹیکنالوجی کا بڑا حصہ چین سے حاصل کیا جاتا ہے، جبکہ سعودی عرب کے دفاعی نظام میں امریکی THAAD اور Patriot سسٹمز مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ حسن الشہری نے کہا کہ چینی ٹیکنالوجی کے ساتھ امریکی نظاموں میں ممکنہ تضاد کو بہتر ہم آہنگی کے ذریعے کثیر سطحی دفاعی نظام میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر شلش نے اسے بڑی رکاوٹ قرار نہیں دیا کیونکہ پاکستان امریکی اور چینی دونوں ہتھیاروں کا تجربہ رکھتا ہے۔ البتہ روبلن نے JF-17 طیاروں کی مغربی ساختہ طیاروں اور Patriot سسٹم کے ساتھ ہم آہنگی میں ممکنہ مشکلات کا ذکر کیا اور فرینڈلی فائر کے خطرات سے خبردار کیا۔

پاکستان کا ثالثی کردار اور توازن

یہ پیش رفت اس سوال کو بھی جنم دیتی ہے کہ پاکستان سعودی عرب میں اپنی فوجی موجودگی اور امریکہ-ایران جنگ بندی مذاکرات میں غیر جانبدار ثالث کے کردار کے درمیان توازن کیسے قائم رکھے گا۔

ڈاکٹر شلش کے مطابق پاکستان روایتی طور پر ثالثی میں زیادہ تجربہ کار نہیں رہا، تاہم موجودہ جنگ میں ایران کی جانب سے دیگر ثالث ممالک (قطر اور عمان) کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پاکستان کو یہ مشکل کردار ادا کرنا پڑ رہا ہے۔

ان کے بقول پاکستان کے حق میں کئی عوامل ہیں جن میں اسرائیل کے بڑھتے اثر و رسوخ پر مشترکہ تحفظات، پاکستان کا اسرائیل سے عدم سفارتی تعلقات، دونوں ممالک کے چین سے قریبی روابط، اور پاکستان میں شیعہ آبادی کا قابل ذکر حصہ شامل ہے۔ ان عوامل کی بنیاد پر پاکستان کا کردار فعال غیر جانبداری کی مثال ہے۔

یاد رہے کہ 2015 میں یمن جنگ کے دوران سعودی عرب نے پاکستان سے فوجی مدد طلب کی تھی مگر پاکستانی پارلیمنٹ نے اس کی منظوری نہیں دی تھی۔ موجودہ صورتحال مختلف ہے کیونکہ اب دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستانی افواج کی یہ تعیناتی اس معاہدے کے عملی نفاذ کا پہلا اہم امتحان ہے، جو دفاعی نوعیت کا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں