مذاکرات لڑکھڑائے تو آگے کیا ہوگا؟ 4 بڑے امکانات

فہرستِ مضامین

ترتیب: اِشفاق احمد

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک نازک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں ایک طرف جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے قریب ہے تو دوسری طرف ممکنہ معاہدے کی امید بھی برقرار ہے۔ ماہرین کے مطابق آئندہ چند دن خطے کے مستقبل کا تعین کر سکتے ہیں کہ جنگ آگے بڑھے گی، رک جائے گی یا کسی نئے سفارتی مرحلے میں داخل ہوگی۔

مذاکرات اور جنگ بندی کی صورتحال

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد منگل کے روز اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے پہنچنے والا ہے، جس کا مقصد جاری جنگ کا خاتمہ ہے۔ تاہم تہران کی جانب سے تاحال شرکت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔

اسی دوران امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی دو ہفتوں کی جنگ بندی بدھ کو ختم ہونے جا رہی ہے، جبکہ گزشتہ دو دنوں میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پہلی ملاقات 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہوئی تھی جو کسی نتیجے کے بغیر ختم ہوئی تھی۔

اس کے بعد صورتحال مزید بگڑ گئی، جہاں امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ایرانی جہازوں پر بحری پابندی عائد کر دی، جبکہ ایران نے بھی اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے امریکی یا غیر ملکی جہازوں کو نشانہ بنایا۔ پیر کے روز امریکہ نے ایک ایرانی جہاز کو روک کر قبضے میں لے لیا، جسے تہران نے “قزاقی” قرار دیا۔

بیانات اور دھمکیوں کا تبادلہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران امریکی شرائط پر معاہدہ نہیں کرتا تو اس کے اہم انفراسٹرکچر، پلوں اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور امریکہ ایک “منصفانہ معاہدہ” پیش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران کے پاس انتخاب ہے کہ وہ مذاکرات کرے یا سنگین نتائج کا سامنا کرے۔

دوسری جانب ایران نے واضح کر دیا ہے کہ دھمکیوں کے سائے میں کوئی مذاکرات قبول نہیں ہوں گے۔ ایرانی پارلیمانی کمیٹی کے رکن محمد رضا محسنی ثانی نے کہا کہ موجودہ حالات میں بات چیت قابلِ قبول نہیں۔

ممکنہ منظرنامے (Scenarios)

1. محدود معاہدہ اور عارضی پیش رفت

اگر مذاکرات ہوتے ہیں تو امکان ہے کہ دونوں فریق کسی عبوری سمجھوتے پر پہنچ جائیں، جس کے تحت جنگ بندی میں توسیع اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ تاہم ماہرین کے مطابق بنیادی اختلافات—ایران کا جوہری پروگرام، پابندیاں اور آبنائے ہرمز کا کنٹرول—ابھی بھی بڑی رکاوٹ ہیں۔

2. مذاکرات ناکام مگر جنگ بندی برقرار

ممکن ہے کہ بات چیت کسی نتیجے پر نہ پہنچے، لیکن وقتی طور پر جنگ بندی میں توسیع کر دی جائے تاکہ مزید سفارتی موقع مل سکے۔ اس صورت میں اعتماد کا فقدان برقرار رہے گا۔

3. مذاکرات کے بغیر عارضی خاموشی

ایک اور امکان یہ ہے کہ ایران مذاکرات میں شرکت نہ کرے، لیکن جنگ بندی وقتی طور پر بڑھا دی جائے۔ تاہم یہ صورتحال انتہائی غیر مستحکم ہوگی اور کسی بھی وقت دوبارہ تصادم شروع ہو سکتا ہے۔

4. مکمل ناکامی اور جنگ کی واپسی

اگر نہ مذاکرات ہوں اور نہ جنگ بندی میں توسیع، تو فوجی کارروائی دوبارہ شروع ہونے کا خطرہ ہے۔ امریکی حکام پہلے ہی سخت ردعمل کا عندیہ دے چکے ہیں، جبکہ ایران بھی جوابی کارروائی کی تیاری کا اعلان کر چکا ہے۔

ماہرین کی رائے

تجزیہ کاروں کے مطابق اصل مسئلہ اعتماد کا فقدان اور سخت مؤقف ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر دباؤ بڑھا رہے ہیں، جس سے سفارتکاری کے امکانات محدود ہو رہے ہیں۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر صورتحال قابو سے باہر ہوئی تو اس کے اثرات پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔

مجموعی طور پر آنے والے چند دن نہایت اہم ہیں یہ طے کریں گے کہ خطہ امن کی طرف جاتا ہے یا ایک نئے بحران میں داخل ہو جاتا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں