مشرقِ وسطیٰ میں کیا ہو رہا ہے؟ لبنان سے آگے بڑھتی ہوئی بحران کی کہانی

فہرستِ مضامین

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جہاں Lebanon نے اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد قومی یومِ سوگ کا اعلان کر دیا۔ ایک ہی دن میں ہونے والی شدید بمباری کے نتیجے میں کم از کم 254 افراد جاں بحق اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہو گئے، جس کے بعد وزیرِاعظم Nawaf Salam نے ملک کے تمام سیاسی اور سفارتی وسائل کو متحرک کرنے کا اعلان کیا تاکہ “اسرائیلی جنگی مشین” کو روکا جا سکے۔

دوسری جانب Benjamin Netanyahu نے واضح کیا ہے کہ لبنان، امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کا حصہ نہیں ہے۔ اسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے امریکی نائب صدر JD Vance نے کہا کہ “ہم نے ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا تھا۔”

تاہم Shehbaz Sharif، جنہوں نے پاکستان کی عسکری قیادت کے ساتھ مل کر جنگ بندی میں کردار ادا کیا، اس سے قبل یہ مؤقف دے چکے ہیں کہ معاہدے میں لبنان میں لڑائی کا وقفہ بھی شامل تھا۔ ایرانی وزیرِ خارجہ Abbas Araghchi نے بھی اسی بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے کی شرائط واضح ہیں اور واشنگٹن کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ جنگ بندی چاہتا ہے یا اسرائیل کے ذریعے جاری جنگ۔

ایران کا مؤقف: جنگ بندی یا مزید جنگ؟

Masoud Pezeshkian نے کہا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملوں کا خاتمہ، ایران کے پیش کردہ 10 نکاتی امن منصوبے کی بنیادی شرط ہے۔

ادھر ایرانی پارلیمان کے اسپیکر Mohammad Bagher Ghalibaf نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، جن میں لبنان پر حملے اور ایرانی فضائی حدود کی خلاف ورزی شامل ہیں۔

امریکی حکام نے تاہم اس بات کی تردید کی ہے کہ ایران کا پیش کردہ 10 نکاتی منصوبہ وہی ہے جس پر White House سے اتفاق ہوا تھا۔

سفارتی محاذ پر سرگرمیاں تیز

امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات کی قیادت اب JD Vance کریں گے، جبکہ Steve Witkoff اور Jared Kushner بھی مذاکرات میں شریک ہوں گے۔

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ Volker Turk نے لبنان میں ہونے والی تباہی کو “ہولناک” قرار دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا۔

فرانس کے صدر Emmanuel Macron نے بھی کوششیں تیز کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ لبنان کو جنگ بندی میں شامل کیا جائے، جبکہ خلیجی ممالک نے اسرائیلی کارروائیوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

خلیجی ممالک بھی لپیٹ میں

کشیدگی کا دائرہ خلیج تک پھیل گیا ہے۔ Kuwait میں ایرانی ڈرون حملوں سے تیل اور بجلی کے اہم تنصیبات کو نقصان پہنچا، جبکہ United Arab Emirates میں گیس تنصیبات متاثر ہوئیں۔

Qatar نے متعدد میزائل اور ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا، جبکہ Saudi Arabia اور Bahrain میں بھی حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔

امریکہ کے اندر بھی ابہام اور احتجاج

واشنگٹن میں جنگ بندی کی شرائط پر شدید ابہام پایا جا رہا ہے۔ JD Vance اور وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے واضح کیا ہے کہ لبنان اس معاہدے کا حصہ نہیں۔

دوسری طرف New York میں سینکڑوں افراد نے جنگ کے خلاف مظاہرہ کیا اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔

ایران کے سابق شاہ کے بیٹے Reza Pahlavi نے بھی ٹرمپ کے “حکومت کی تبدیلی” کے دعوے کو مسترد کر دیا۔

اسرائیل کا سخت مؤقف برقرار

Benjamin Netanyahu نے کہا ہے کہ اسرائیل اب بھی اپنے اہداف کے حصول کے لیے تیار ہے اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ جنگ شروع کی جا سکتی ہے۔

لبنان میں تباہی اور سوگ

لبنان میں ایک ہی دن کی بمباری کو موجودہ جنگ کا سب سے ہلاکت خیز حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومت نے ملک بھر میں یومِ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے سرکاری ادارے بند اور پرچم سرنگوں کر دیے ہیں۔

عراق کے وزیرِاعظم Mohammed Shia al-Sudani اور فرانسیسی صدر Emmanuel Macron نے بھی ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔

مجموعی طور پر صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگرچہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کا اعلان ہو چکا ہے، لیکن خطے میں امن اب بھی غیر یقینی کا شکار ہے، اور لبنان ایک نئے اور خطرناک محاذ کے طور پر ابھر رہا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں