ذوالفقار بھٹو جونیئر نے کئی دن ادہار کی گاڑی پر گذارے

فہرستِ مضامین

میر مرتضیٰ بھٹو کے بیٹے ذوالفقار بھٹو جونیئر نے اپنے مشکل وقت کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انہوں نے کئی روز ادہار کی گاڑی اور بغیر سیکیورٹی کے گذارے اور ان کے لیے اپنی ہی زرعی زمین پر جانا بھی دشوار تھا

شہید میر مرتضیٰ بھٹو کے قریبی ساتھی غازی علی احمد پلیپوٹو کی چوتھی برسی کے موقع پر ذوالفقار علی بھٹو جونیئر نے ایکس پر جاری ایک بیان لکھا کہ غازی علی احمد پلیپوٹو کی چوتھی برسی کے موقع پر میں چند خیالات نئی جماعت کی تشکیل کے حوالے سے پیش کرنا چاہتا ہوں۔

انہوں نے لکھا کہ شہید بھٹو پارٹی اس وقت وجود میں آئی جب میرے والد، شہید میر مرتضیٰ بھٹو نے اپنے وفادار ساتھیوں جیسے علی احمد پلیپوٹو کے ساتھ مل کر ضیاء الحق کی آمرانہ حکومت کے خلاف 16 برس جلاوطنی میں سخت جدوجہد کی۔مگر بدقسمتی سے پیپلز پارٹی نے ہی انہیں رد کر دیا۔

ذوالفقار علی بھٹو جونیئر نے کہا کہ اس دوران انہوں نے عارضی طور پر پی پی ایس بی قائم کی تاکہ ایک دن وہ اپنے جائز حق یعنی پیپلز پارٹی کی چیئرمین شپ حاصل کرسکیں۔ لیکن افسوس کہ شہید بھٹو پارٹی بھی کچھ موقع پرست سیاست دانوں کے ہاتھوں یرغمال ہوگئی۔

ذوالفقار بھٹو جونیئر کے مطابق انہی لوگوں نے نہ صرف پارٹی بلکہ خاندان میں بھی تقسیم پیدا کی اور میرا پاکستان میں رہنا دشوار بنا دیا۔

اپنے بابا کی زرعی زمین پر جانے کے لیے مشکلات کا سامنہ

ذوالفقار علی بھٹو جونیئر نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ ایک موقع پر میرے والد کے وفادار ساتھی اور سوشلسٹ رہنما عنایت علی عمرانی کو گرفتار کروایا گیا۔ اس دوران چھ ماہ تک میرے پاس نہ گاڑی تھی، نہ ڈرائیور اور نہ ہی سیکیورٹی کہ میں والد کی زمینوں پر جا سکوں۔ اس کے باوجود میں نوڈیرو پہنچتا رہا، کبھی چھوٹی سوزوکی مہران میں، کبھی ادھار لی گئی گاڑیوں میں اور ایک بار ٹرین کے ذریعے بھی۔ بالآخر عنایت علی عمرانی رہا ہوئے۔

انہوں نے لکھا کہ پاکستان میں ڈٹے رہنے اور اپنے عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کا حوصلہ مجھے علی احمد پالیپوٹو جیسے باوفا اور ثابت قدم ساتھیوں کی قربانیوں اور وفاداری سے ملا۔

نوجوانوں کو سازشوں سے آزاد کرنے کے لیے نئی جماعت تشکیل دی ہے

ذوالفقار علی بھٹو جونیئر اپنی پوسٹ میں بار بار سازش اور نام نہاد سیاستدانوں کا تذکرہ کرتے رہے، انہوں نے لکھا کہ پارٹی کے نوجوانوں کو محل کی سازشوں اور نام نہاد سیاست دانوں کی چھوٹی سوچ سے آزاد کرنے کے لیے میری بہن اور میں نے مل کر ایک نئی جماعت تشکیل دی۔

ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کے مطابق ایک ایسی جماعت جو خاندانی سازشوں اور سیاسی بوجھ سے آزاد ہو۔ مجھے فخر ہے کہ آج غازی علی احمد پلیپوٹو کے صاحبزادے نیاز احمد پلیپوٹو اپنے والد کے مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

میری دعا ہے کہ نوجوان نسل ان تلخیوں کو اپنے دلوں میں جگہ نہ دے جنہوں نے ہمارے بڑوں کو تقسیم کیا۔ ہم مضبوط، متحد اور باوقار رہیں اگر اپنے لیے نہیں تو کم از کم ان عوام کے لیے جن کے حقوق کے لیے ہم لڑ رہے ہیں۔

یاد رہے کہ شہید میر مرتضیٰ بھٹو کے بیٹے ذوالفقار علی بھٹو جونیئر نے اپنی نئی جماعت کا اعلان کئی بار کر چکے ہیں لیکن ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ ان کی جماعت کا نام کیا ہوگا اور وہ باقی جماعتوں سے مختلف کیسے ہوگی؟

ذوالفقار علی بھٹو جونیئر گذشتہ دو برس سے سندھ کی سیاست میں سرگرم نظر آتے ہیں، دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کے خلاف احتجاج ہوں یا سیلاب متاثرین کی مدد اور بحالی کا معاملا ہو، وہ ہمیشہ ان کے لیے آواز اٹھاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں