لاہور: لاہور پولیس نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کی باقاعدہ گرفتاری ڈال دی ہے۔ پولیس کے مطابق حماد اظہر لاہور پولیس کو مختلف مقدمات میں مطلوب تھے اور اب انہیں قانونی کارروائی کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ حماد اظہر کو گزشتہ روز ملتان سے گرفتار […]

لائیو کوریج

7 ستمبر 2026

تین سال بعد حماد اظہر گرفتار، مقدمات کی تفتیش شروع

لاہور: لاہور پولیس نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کی باقاعدہ گرفتاری ڈال دی ہے۔ پولیس کے مطابق حماد اظہر لاہور پولیس کو مختلف مقدمات میں مطلوب تھے اور اب انہیں قانونی کارروائی کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

حماد اظہر کو گزشتہ روز ملتان سے گرفتار کیا گیا تھا، تاہم لاہور پولیس نے آج انہیں اپنے مقدمات میں باضابطہ طور پر گرفتار کرلیا۔

لاہور پولیس کے ترجمان کے مطابق حماد اظہر پولیس کو مجموعی طور پر 18 مقدمات میں مطلوب تھے اور وہ گزشتہ تقریباً تین سال سے روپوش تھے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ انویسٹی گیشن پولیس نے حماد اظہر کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے اور ان کے خلاف درج مقدمات کے حوالے سے قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق حماد اظہر کو متعلقہ عدالت میں پیش کرکے تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی استدعا کی جائے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ مختلف مقدمات کی تفتیش مکمل ہونے کے بعد قانون کے مطابق چالان تیار کرکے انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

پولیس کے مطابق حماد اظہر کے خلاف مقدمات میں تحقیقات کو قانونی تقاضوں کے مطابق آگے بڑھایا جائے گا اور عدالت سے حاصل ہونے والے ریمانڈ کے دوران تفتیش مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

واضح رہے کہ حماد اظہر پاکستان تحریک انصاف کے اہم رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں اور سابق وفاقی وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ ان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے ممکنہ ردعمل اور آئندہ قانونی پیش رفت پر سیاسی حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں۔

7 ستمبر 2026

صدر زرداری کا فرانس کا دورہ منسوخ، برطانیہ سے پاکستان واپسی

لندن: صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنا دورہ یورپ مختصر کرتے ہوئے فرانس کا مجوزہ دورہ منسوخ کردیا ہے اور وہ برطانیہ کا دورہ مکمل کرنے کے بعد 8 ستمبر کو پاکستان کے لیے روانہ ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے برطانیہ کے بعد دو روزہ دورے پر فرانس جانا تھا، تاہم پروگرام میں تبدیلی کے بعد فرانس کا دورہ منسوخ کردیا گیا ہے۔

اب صدر مملکت برطانیہ سے براہِ راست پاکستان واپس آئیں گے۔

واضح رہے کہ دورہ برطانیہ کے دوران صدر آصف علی زرداری سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی ملاقات کی تھی۔

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھی لندن میں صدر مملکت سے ملاقات کی۔

صدر زرداری کے دورہ یورپ مختصر کرنے اور فرانس کا دورہ منسوخ کرنے کی وجوہات کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

7 ستمبر 2026

سہیل آفریدی کا سندھ کے حکمرانوں پر طنز، اصل بات کیا ہے؟

کراچی: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ کے عوام کی بدقسمتی ہے کہ ایسے لوگ ان پر حکمرانی کر رہے ہیں، ایک طرف بلاول بھٹو زرداری کو خوش آمدید کہا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب راستوں میں کھڈے کھودے جاتے ہیں۔

کراچی میں وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ سندھ کے عوام نے تحریک انصاف کو عزت دی ہے اور انہوں نے ہمت کے ساتھ مبینہ فسطائیت کا مقابلہ کیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ کراچی میں تحریک انصاف کے کارکنوں کو گرفتار کیا جاتا ہے، جبکہ پارٹی کا مؤقف ہے کہ موجودہ اسمبلیاں غلط طریقے سے وجود میں آئی ہیں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ایک وزیراعلیٰ کی جانب سے پڑوسی ممالک سے خطرے کی بات کی جاتی ہے، لیکن اسی وزیراعلیٰ کی جماعت کی وفاق میں بھی حکومت ہے۔ ان کے بقول اس صورتحال سے یہ تاثر ملتا ہے کہ مذکورہ جماعت کا بیانیہ ریاست کے خلاف ہے۔

سہیل آفریدی نے افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے دور حکومت میں افغانستان کے ساتھ پاکستان کے معاملات بہتر تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تحریک انصاف نے افغانستان سے متعلق حکومتی پالیسی پر تنقید کی تو جواب میں کہا گیا کہ ’’افغانستان چلے جاؤ‘‘۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اپنی سیاسی جدوجہد اور ذاتی پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ بسوں اور رکشوں میں سفر کرکے اسکول جاتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کے رشتے دار نہیں ہیں اور نہ ہی ارب پتی ہیں۔

7 ستمبر 2026

امریکی ناکہ بندی کے جواب میں ایران کا خلیج میں نیا منصوبہ

تہران: ایران نے خلیج کے علاقے میں ایک نئے ’ممنوعہ زون‘ کے قیام کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ چند روز یا ہفتوں میں اس حوالے سے باضابطہ اعلان کیا جائے گا، جبکہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے نئے راستوں کے نقشے بھی جاری کیے جائیں گے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران کی سپریم سکیورٹی کونسل کے نئے سربراہ محسن رضائی نے سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تہران آبنائے ہرمز کے اطراف ایک نیا ممنوعہ علاقہ قائم کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

محسن رضائی کے مطابق نئے زون میں داخل ہونے والے ان بحری جہازوں کی کڑی نگرانی کی جائے گی جن کے بارے میں شبہ ہو کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نئے ممنوعہ زون کی حدود امریکی ناکہ بندی کے زیراثر علاقوں سے آبنائے ہرمز تک پھیل سکتی ہیں اور اس کا دائرہ خلیج کے دیگر حصوں تک بھی وسیع ہوگا۔

محسن رضائی نے خبردار کیا کہ جو بھی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کے ارادے سے اس مخصوص علاقے میں داخل ہوگا، اس کی شناخت کی جائے گی اور اسے پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جاسکتا ہے۔

ایرانی سکیورٹی کونسل کے سربراہ نے یہ بھی بتایا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے لیے نئے راستوں کے نقشوں کی منظوری جلد دی جائے گی۔

ان کے بقول ایران اور عمان کی سمندری حدود سے گزرنے والی ایک نئی بین الاقوامی بحری راہداری کے نقشوں پر اتفاق ہوچکا ہے، جس کے انتظامی معاملات ایران کے پاس ہوں گے اور آئندہ چند روز میں اس معاہدے پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے۔

محسن رضائی نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو معمول پر لانے کی ضمانت اسی صورت دے گا جب امریکہ ایران کے خلاف اپنے حملے بند کرے گا۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرچکی ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

روئٹرز کے مطابق محسن رضائی کا بیان ایک روز بعد سامنے آیا جب ایران کی جانب سے امریکی جہازوں پر بیلسٹک میزائل داغے جانے کے جواب میں امریکی فوج نے ایران کے تین تیل بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنایا۔

ماہرین ایران کے میزائل حملوں کو خطے میں کشیدگی کے خطرناک مرحلے میں داخل ہونے کی علامت قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اس سے قبل حملوں کا زیادہ تر رخ تجارتی بحری جہازوں تک محدود تھا۔

امریکہ کی جانب سے کئی ہفتوں سے ایران پر سمندری اور معاشی دباؤ بڑھانے کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی حکام کے مطابق 20 سے زائد جنگی جہاز ایرانی ناکہ بندی کے آپریشن میں شامل ہیں۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز کارروائی کے دوران 92 بحری جہازوں کا رخ تبدیل کیا گیا، جبکہ تین جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا۔

دوسری جانب ایران مسلسل دعویٰ کرتا رہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر کارروائی بھی کرسکتا ہے۔

اتوار کو ایران نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ اس نے ایک بغیر پائلٹ امریکی بحری جہاز کو نشانہ بنایا جو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم امریکی فوج نے ایرانی دعوے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے جھوٹ قرار دیا۔

واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ میں آبنائے ہرمز ایک انتہائی اہم اور حساس محاذ بن کر سامنے آئی ہے۔ ایران اس اہم آبی گزرگاہ کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔

ایک ماہ بعد لڑائی دوبارہ شدت اختیار کرگئی

تقریباً ایک ماہ تک صورتحال نسبتاً پرسکون رہنے کے بعد گزشتہ ہفتے ایران اور امریکہ کے درمیان ایک بار پھر حملوں کا سلسلہ شروع ہوگیا، جو تاحال جاری ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد امریکہ نے ایران پر معاشی پابندیوں اور دیگر دباؤ کے اقدامات میں اضافہ کردیا ہے، جبکہ دوسری جانب ایران کی جانب سے بھی آبنائے ہرمز اور خلیج کے علاقے میں اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی ترسیل، بحری تجارت اور آبنائے ہرمز کی سلامتی کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہوگیا ہے۔

2 ستمبر 2026

صدر زرداری کے بعد بلاول بھٹو بھی لندن پہنچ گئے

لندن: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری آسٹریا سے لندن پہنچ گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ ان کے اسٹاف کے ارکان بھی لندن پہنچے ہیں، جہاں وہ تقریباً ایک ہفتہ قیام کریں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر آصف علی زرداری بھی تقریباً 48 گھنٹے قبل آسٹریا سے لندن پہنچ چکے ہیں۔

صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے لندن قیام کے دوران قریبی دوستوں سمیت بعض برطانوی وزراء سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔

ذرائع کے مطابق ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے امور، پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات سمیت دیگر اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا جا سکتا ہے۔

2 ستمبر 2026

چین اور مصر کی قربتیں بڑھنے لگیں، مشرق وسطیٰ میں طاقت کا نیا توازن؟

قاہرہ: چینی صدر شی جن پنگ کا مصر کا دورہ بظاہر دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش ہے، تاہم اس دورے کو مشرق وسطیٰ میں چین کے بڑھتے ہوئے سیاسی، معاشی اور تزویراتی اثر و رسوخ کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ اس ہفتے مصر کے دورے پر ہیں، جہاں وہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کریں گے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں باہمی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔

عرب نیوز کے مطابق چین، جو امریکہ کے بڑے عالمی حریفوں میں شمار ہوتا ہے، مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال میں اپنے تعلقات اور اثر و رسوخ کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

چین خود کو خطے میں استحکام کی طاقت کے طور پر پیش کرنے کا خواہاں

تجزیہ کاروں کے مطابق صدر شی جن پنگ کی کوشش ہے کہ چین کو مشرق وسطیٰ میں ایک ایسی طاقت کے طور پر پیش کیا جائے جو اقتصادی تعاون اور سفارتی روابط کے ذریعے استحکام پیدا کر سکتی ہے۔

اس کے برعکس امریکہ کئی دہائیوں سے مشرق وسطیٰ میں فوجی اور سیاسی طور پر فعال رہا ہے اور حالیہ علاقائی کشیدگی نے خطے میں طاقت کے توازن پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

شی جن پنگ منگل کی شام قاہرہ پہنچے، جہاں مصری حکام نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ قاہرہ ایئرپورٹ کو چینی اور مصری پرچموں سے سجایا گیا تھا، جبکہ صدر عبدالفتاح السیسی نے فوجی اعزاز کے ساتھ چینی صدر کا استقبال کیا۔

دونوں رہنماؤں کی ملاقات بدھ کو طے ہے، جبکہ شی جن پنگ مصر کے عظیم میوزیم کا بھی دورہ کریں گے، جو اہرامِ جیزہ کے قریب واقع ہے۔

یہ چینی صدر کا تقریباً دس سال بعد مصر کا پہلا دورہ ہے، جبکہ 2022 میں سعودی عرب کے دورے کے بعد مشرق وسطیٰ کا ان کا یہ اہم ترین سفر قرار دیا جا رہا ہے۔

چین اور مصر کے سفارتی تعلقات کے 70 سال

چین اور مصر اس سال اپنے سفارتی تعلقات کے 70 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں۔

دونوں ممالک کے صدور نے منگل کو مصر کے سرکاری اخبارات میں خصوصی مضامین بھی تحریر کیے، جن میں دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

صدر شی جن پنگ نے کہا کہ بیجنگ اور قاہرہ کو ترقی اور اقتصادی تعاون کے ذریعے عملی شراکت داری کے دائرے کو مزید وسیع کرنا چاہیے۔

دوسری جانب مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے مصر میں چینی سرمایہ کاری کو سراہتے ہوئے چین کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تائیوان سے متعلق چین کے مؤقف کی حمایت بھی دہرائی۔

مصر چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کو اپنی خارجہ اور اقتصادی شراکت داریوں میں تنوع پیدا کرنے کے ایک اہم ذریعے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور بڑھتی تجارت

چین اور مصر کے اقتصادی تعلقات گزشتہ چند برسوں میں نمایاں طور پر مضبوط ہوئے ہیں۔

2023 میں مصر کو برکس اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی، جس میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔

بعد ازاں مصر اور چین نے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت تعاون کو مزید وسعت دینے کے معاہدے کیے۔

رپورٹس کے مطابق چین نے مصر میں 10 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے، جس میں قاہرہ کے مشرق میں قائم ہونے والا ایک بڑا کاروباری مرکز اور نائل ڈیلٹا میں صنعتی ریلوے منصوبے شامل ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان سالانہ تجارت کا حجم تقریباً 20 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جو چین اور مصر کے بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

چین کا مشرق وسطیٰ میں سفارتی کردار

چین گزشتہ چند برسوں سے مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں سفارتی کردار بھی بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

2023 میں بیجنگ نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا، جسے چین کی علاقائی سفارت کاری کی بڑی کامیابی قرار دیا گیا۔

چین اسرائیل اور فلسطین کے تنازع کے دو ریاستی حل کی بھی حمایت کرتا ہے۔ بیجنگ نے فلسطینی صدر محمود عباس کی میزبانی کرتے ہوئے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کا اعلان بھی کیا تھا۔

آبنائے ہرمز کی کشیدگی اور نہر سویز کی بڑھتی اہمیت

ایران سے متعلق حالیہ کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات کے درمیان مصر کے زیر انتظام نہر سویز کی تزویراتی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق چین کے لیے مصر کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم رکھنے کی ایک اہم وجہ نہر سویز بھی ہے، جو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔

دفاعی تعاون میں بھی اضافہ

چین اور مصر صرف اقتصادی تعلقات تک محدود نہیں بلکہ دفاعی تعاون کو بھی وسعت دے رہے ہیں۔

اگست میں دونوں ممالک نے متعدد فضائی اڈوں پر مشترکہ جنگی مشقیں کیں، جن میں چین کے جے-16 لڑاکا طیاروں اور مصر کے فرانسیسی ساختہ رافیل طیاروں نے حصہ لیا۔

صدر شی جن پنگ کا دورۂ مصر ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب چین عالمی اور علاقائی سطح پر اپنی سفارتی، اقتصادی اور تزویراتی موجودگی کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مصر کے ساتھ بڑھتی ہوئی شراکت داری چین کی وسیع تر مشرق وسطیٰ پالیسی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے بیجنگ خطے میں ایک اہم سیاسی اور اقتصادی طاقت کے طور پر اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرنا چاہتا ہے۔

دوسری جانب ایران پر امریکی پابندیوں اور بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود چین ایران کا ایک اہم تجارتی شراکت دار ہے۔ چین ایران سے بڑی مقدار میں تیل خریدتا ہے اور بیجنگ کا کہنا ہے کہ اس کی تجارتی سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین کے مطابق انجام دی جاتی ہیں۔