ترتیب: اِشفاق احمد
ایران پر امریکی-اسرائیلی جنگ کے خلاف دنیا بھر میں غم و غصہ تو موجود ہے، مگر حیران کن طور پر یہ غصہ بڑے پیمانے کے عوامی مظاہروں میں تبدیل نہیں ہو سکا—جیسا کہ غزہ یا یوکرین کے معاملے میں دیکھنے کو ملا تھا۔ ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجوہات تھکن، خوف اور مایوسی ہیں۔
ایران جنگ: عالمی بے چینی، مگر سڑکیں خاموش
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری حملوں کو تقریباً سات ہفتے گزر چکے ہیں، جبکہ گزشتہ دس دنوں سے ایک نازک جنگ بندی نے وقتی سکون تو دیا ہے، مگر کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
ان حملوں میں اب تک دو ہزار سے زائد افراد ہلاک، لاکھوں بے گھر اور اہم تنصیبات تباہ ہو چکی ہیں، جن میں جوہری مراکز کے اطراف کے علاقے بھی شامل ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت دھمکیاں دیتے ہوئے اس کی “مکمل تہذیب” ختم کرنے تک کی بات کی، جبکہ جواب میں ایران نے اسرائیلی اہداف کے ساتھ خلیجی خطے میں بھی میزائل حملے کیے۔
جنگ بندی خطرے میں، خطے میں نئی کشیدگی
پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی اس وقت دباؤ کا شکار ہے، خاص طور پر لبنان میں اسرائیلی حملوں اور جنوبی لبنان میں زمینی کارروائی کے بعد، جہاں 1300 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
عوامی مخالفت مگر کمزور احتجاج
امریکہ اور یورپ میں کیے گئے سرویز کے مطابق یہ جنگ غیر مقبول ہے، لیکن اس کے باوجود بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے سامنے نہیں آئے۔
اعداد و شمار کے مطابق:
ایران جنگ کے پہلے مہینے میں دنیا بھر میں تقریباً 3200 مظاہرے ہوئے
یوکرین جنگ کے آغاز پر یہ تعداد 3700 تھی
جبکہ غزہ جنگ کے خلاف پہلے مہینے میں 6100 مظاہرے ریکارڈ کیے گئے
یہ فرق واضح کرتا ہے کہ ایران کے معاملے میں عوامی ردعمل نسبتاً کمزور رہا ہے۔
کم جانی نقصان اور “خاموش جنگ”
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اب تک امریکی جانی نقصان محدود رہا ہے—صرف 14 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔
مزید یہ کہ یہ جنگ روایتی زمینی لڑائی کے بجائے ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے لڑی جا رہی ہے، جسے بعض تجزیہ کار “ویڈیو گیم وار” قرار دیتے ہیں۔
اس اندازِ جنگ میں انسانی نقصان کم دکھائی دیتا ہے، جس کی وجہ سے عوامی ضمیر کو وہ جھٹکا نہیں لگتا جو بڑے پیمانے کی تباہی سے پیدا ہوتا ہے۔
غزہ کے برعکس: جذباتی اثر کم
غزہ میں تباہی، بھوک اور بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی واضح تصاویر نے دنیا بھر میں شدید ردعمل پیدا کیا تھا۔
اس کے برعکس ایران جنگ میں انسانی المیہ اتنا نمایاں نظر نہیں آ رہا، جس سے احتجاجی تحریک کمزور رہی۔
مایوسی اور ترجیحات کی تبدیلی
ماہرین کے مطابق غزہ کے حق میں جاری تحریک اپنی کوششوں کے باوجود جنگ روکنے میں ناکام رہی، جس کے باعث بہت سے کارکن مایوس اور تھک چکے ہیں۔
ساتھ ہی امریکہ میں دیگر مسائل—جیسے امیگریشن کریک ڈاؤن—بھی عوام کی توجہ تقسیم کر رہے ہیں۔
ایران کی عالمی شبیہ بھی رکاوٹ
ایران کے معاملے میں ایک اور پیچیدگی اس کی عالمی شبیہ ہے۔
جہاں فلسطین کو ایک مظلوم اور مقبوضہ خطہ سمجھا جاتا ہے، وہیں ایران ایک خودمختار ریاست ہے جس پر اپنے شہریوں پر سختی کے الزامات بھی ہیں۔
اسی وجہ سے کچھ لوگ جنگ کی مخالفت کرتے ہوئے بھی ایران کی حمایت سے گریز کرتے ہیں۔
تعلیمی اداروں میں خوف کا ماحول
مغربی یونیورسٹیوں میں، جہاں ماضی میں جنگ مخالف تحریکیں زور پکڑتی تھیں، اس بار ماحول کافی خاموش ہے۔
طلبہ کے خلاف سخت اقدامات، ویزا منسوخی، اور احتجاج پر پابندیوں نے سرگرمیوں کو محدود کر دیا ہے۔
کیا صورتحال بدل سکتی ہے؟
فی الحال جنگ بندی نے وقتی طور پر کشیدگی کم کر دی ہے، مگر ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر جنگ دوبارہ شدت اختیار کرتی ہے—خاص طور پر اگر زمینی فوجیں داخل ہوئیں یا جانی نقصان بڑھا—تو صورتحال تیزی سے بدل سکتی ہے۔
اسی طرح مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور معاشی دباؤ بھی عوام کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کر سکتا ہے۔