اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان متوقع دوسرے مذاکراتی دور سے قبل سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ اسی سلسلے میں امریکی سفارت خانے کی ناظم الامور نیتلی بیکر نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے اہم ملاقات کی، جس میں سکیورٹی انتظامات اور مجموعی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
وزارت داخلہ کے مطابق محسن نقوی نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان آنے والے تمام غیر ملکی وفود کو فول پروف سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔ اجلاس میں اعلیٰ حکام بھی شریک تھے جن میں ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور، چیف کمشنر اسلام آباد سہیل اشرف، آئی جی اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی اور ڈپٹی کمشنر عرفان میمن شامل تھے۔
دوسری جانب ممکنہ مذاکرات کے پیش نظر دارالحکومت کو عملاً ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے جبکہ اس کے اطراف کے علاقوں میں بھی غیر معمولی پابندیاں نافذ ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق غیر متعلقہ افراد اور عام ٹریفک کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
سکیورٹی کے لیے شہر بھر میں تقریباً 10 ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جن میں پولیس، رینجرز اور پاک فوج کے دستے شامل ہیں۔ اہم داخلی و خارجی راستوں پر سخت چیکنگ کا عمل جاری ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
انتظامیہ نے احتیاطی تدابیر کے طور پر ریڈ زون میں قائم دفاتر کے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت دی ہے، جبکہ قریبی تعلیمی اداروں کو آن لائن کلاسز منتقل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
شہریوں کو درپیش ممکنہ مشکلات کے پیش نظر ٹریفک پولیس نے خصوصی پلان جاری کیا ہے۔ ریڈ زون اور اس کے اطراف کے علاقوں میں مکمل بندش کے باعث ایکسپریس وے اور سری نگر ہائی وے کے بعض حصوں پر بھی ٹریفک محدود یا عارضی طور پر معطل رہ سکتی ہے۔ متبادل راستوں کے طور پر نائنتھ ایونیو، مری روڈ، سٹیڈیم روڈ اور دیگر شاہراہوں کے استعمال کی ہدایت دی گئی ہے۔
ٹریفک حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔ خاص طور پر ہیوی ٹرانسپورٹ کے مالکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ چند روز تک اسلام آباد کا رخ نہ کریں۔
یاد رہے کہ ضلعی انتظامیہ پہلے ہی شہر میں ہیوی ٹریفک اور پبلک ٹرانسپورٹ معطل کر چکی ہے، جس کے باعث میٹرو بس سروس سمیت دیگر سفری سہولیات بھی عارضی طور پر بند ہیں۔