پاکستان کے لیے خوشخبری، سعودی فنڈز میں ایک ارب ڈالر کا اضافہ

فہرستِ مضامین

پاکستان کو بیرونی مالیاتی محاذ پر ایک اور اہم سہارا مل گیا ہے، جہاں سعودی عرب کی جانب سے ایک ارب ڈالر کی نئی قسط موصول ہو گئی ہے، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر کو تقویت ملی ہے اور معاشی استحکام کی کوششوں کو سہارا ملا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق یہ رقم سعودی حکومت کے اعلان کردہ 3 ارب ڈالر ڈپازٹ پروگرام کا حصہ ہے اور اسے دوسری قسط کے طور پر پاکستان کے اکاؤنٹ میں منتقل کیا گیا ہے۔ اس سے قبل 15 اپریل کو 2 ارب ڈالر کی پہلی قسط موصول ہو چکی تھی، جس کے بعد مجموعی طور پر وعدہ کردہ پوری رقم پاکستان کو فراہم کر دی گئی ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور زرمبادلہ کے ذخائر میں استحکام برقرار رکھنے کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے یہ مالی معاونت نہ صرف فوری ضروریات پوری کرنے میں مدد دے رہی ہے بلکہ عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ جاری پروگرامز میں بھی اعتماد کو مضبوط کر رہی ہے۔

پس منظر میں دیکھا جائے تو وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے حال ہی میں عندیہ دیا تھا کہ سعودی عرب کے مزید 5 ارب ڈالر ڈپازٹس کی مدت میں توسیع متوقع ہے، جسے سالانہ بنیاد پر رول اوور کرنے کے بجائے 3 سال کے لیے بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس ممکنہ پیش رفت سے پاکستان کو درمیانی مدت میں مالیاتی دباؤ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

دوسری جانب پاکستان نے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ حال ہی میں متحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر کی واپسی 45 کروڑ ڈالر سود کے ساتھ کی گئی، جبکہ مزید ایک ارب ڈالر کی ادائیگی 23 اپریل کو متوقع ہے۔ یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان ایک طرف بیرونی معاونت حاصل کر رہا ہے تو دوسری جانب اپنے مالیاتی وعدوں کو بھی پورا کر رہا ہے۔

مجموعی طور پر سعودی عرب کی جانب سے موصول ہونے والی یہ نئی قسط پاکستان کے لیے نہ صرف ایک وقتی ریلیف ہے بلکہ معاشی بحالی کے سفر میں ایک اہم پیش رفت بھی سمجھی جا رہی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں