ٹرمپ نے جس ایران جوہری معاہدے کو “بدترین” کہا، وہ اصل میں تھا کیا؟

فہرستِ مضامین

ترتیب: اِشفاق احمد

امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے جوہری معاہدے پر اپنے سخت مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری ممکنہ نیا معاہدہ 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) سے “کہیں بہتر” ہوگا۔

ٹرمپ وہی رہنما ہیں جنہوں نے 2018 میں اپنے پہلے دورِ صدارت میں اس معاہدے سے امریکہ کو نکال لیا تھا اور اسے “اب تک کا بدترین معاہدہ” قرار دیا تھا۔

JCPOA کیا تھا؟

2015 میں ایران اور دنیا کی بڑی طاقتوں—امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین اور روس—کے درمیان طے پانے والا یہ معاہدہ تقریباً دو سال کی طویل سفارتی کوششوں کا نتیجہ تھا۔

اس معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر سخت پابندیاں قبول کیں، جن میں یورینیم کی افزودگی کی سطح کو کم کرنا، ذخائر میں نمایاں کمی اور عالمی معائنہ کار ادارے (IAEA) کی سخت نگرانی شامل تھی۔ بدلے میں ایران پر عائد کئی معاشی پابندیاں نرم کر دی گئی تھیں اور اس کی معیشت کو عالمی نظام میں واپس لانے کی راہ ہموار ہوئی تھی۔

ٹرمپ کا یوٹرن اور نئی پالیسی

ٹرمپ نے اقتدار میں آتے ہی اس معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے ایران پر “زیادہ سخت معاہدے” کی شرط رکھی۔ ان کے مطابق نیا معاہدہ صرف جوہری پروگرام تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایران کے میزائل پروگرام، خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت اور اس کی عسکری صلاحیتوں کو بھی شامل کرنا چاہیے۔

امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر یہ بھی الزام عائد کیا کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم اس کے واضح ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔

موجودہ صورتحال

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں ہونے کے امکانات غیر یقینی ہیں، جبکہ دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی بھی اپنے اختتام کے قریب ہے۔

ایران کا مؤقف

ایران مسلسل یہ مؤقف دہرا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن اور توانائی کے مقاصد کے لیے ہے۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ دھمکیوں کے سائے میں کسی بھی قسم کی بات چیت قبول نہیں کرے گا۔

معاہدے کے بعد کیا ہوا؟

ٹرمپ کے فیصلے کے بعد 2019 سے ایران نے بھی معاہدے کی حدود کو آہستہ آہستہ توڑنا شروع کیا، جس کے نتیجے میں یورینیم کی افزودگی کی سطح میں اضافہ ہوا اور جوہری سرگرمیوں پر نگرانی مزید پیچیدہ ہو گئی۔

ماہرین کی رائے

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ امریکہ ایک “نیا اور بہتر معاہدہ” چاہتا ہے، لیکن حقیقت میں دونوں فریقین کے درمیان فاصلے بہت زیادہ ہیں۔ ایران اپنی خودمختاری اور جوہری افزودگی کے حق سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، جبکہ واشنگٹن مکمل پابندیوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کسی محدود سمجھوتے کا امکان موجود ہے، لیکن مکمل اور پائیدار معاہدہ فی الحال مشکل دکھائی دیتا ہے۔

2015 کا جوہری معاہدہ ایک تاریخی سفارتی کامیابی سمجھا جاتا تھا، لیکن 2018 میں اس کے خاتمے کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ آج صورتحال ایک بار پھر اسی موڑ پر کھڑی ہے، جہاں یا تو نیا معاہدہ ہوگا یا پھر کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں