آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان چین نے امریکی کارروائی پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے صورتحال کو نہایت حساس قرار دیا ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے واضح کیا کہ خطے میں تناؤ مزید بڑھانے کے بجائے تمام فریقین کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
بیجنگ میں میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال نہ صرف پیچیدہ ہے بلکہ عالمی تجارت کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کیے جائیں اور بحری راستوں پر معمول کی سرگرمیاں بحال کی جائیں۔
یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب امریکہ نے ایک ایرانی پرچم بردار تجارتی جہاز کو فائرنگ کے بعد اپنی تحویل میں لینے کا دعویٰ کیا۔ امریکی مؤقف کے مطابق جہاز نے ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کی کوشش کی تھی۔
دوسری جانب ایران نے اس اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے “مسلح بحری قزاقی” قرار دیا ہے۔ ایرانی فوج کے مطابق مذکورہ جہاز چین سے روانہ ہوا تھا، اور تہران نے اس واقعے کے جواب میں ردعمل دینے کا عندیہ بھی دیا ہے۔
چین نے نہ صرف اس واقعے پر تشویش ظاہر کی بلکہ تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی کو برقرار رکھیں اور مذاکراتی عمل کو متاثر نہ ہونے دیں۔ ترجمان نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ موجودہ صورتحال کو سنبھال کر جلد از جلد امن کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔