جنگ یا امن؟ ٹرمپ نے ایران سے “شان دار تصفیے” کا اعلان کر دیا

فہرستِ مضامین

اسلام آباد/واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اہم معاہدہ طے پانے کے قریب ہے، جس پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے کھول دیا جائے گا۔

اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران ایک “بہترین تصفیے” تک پہنچ چکے ہیں اور انہیں امید ہے کہ آئندہ چند روز میں معاہدے پر باضابطہ دستخط ہو جائیں گے۔ ان کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس دستخطی تقریب میں امریکی نمائندگی کریں گے۔

امریکی صدر نے بتایا کہ معاہدے کے حوالے سے خطے کی اہم قیادت، بشمول اسرائیلی وزیرِاعظم Benjamin Netanyahu، سے بھی مشاورت کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدہ نافذ ہوتے ہی آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی اور خطے میں کشیدگی کم ہونے کی راہ ہموار ہوگی۔

ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایرانی سپریم لیڈر Mojtaba Khamenei نے اس مفاہمتی فریم ورک کی منظوری دے دی ہے، جس کے نتیجے میں ایرانی بندرگاہوں پر عائد امریکی دباؤ اور محاصرے کے خاتمے کی راہ نکل سکتی ہے۔ تاہم تہران کی جانب سے اب تک اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

امریکی صدر نے مجوزہ معاہدے کو “انتہائی مضبوط مفاہمتی یادداشت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ بعض نکات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں، لیکن مجموعی طور پر معاہدہ مکمل ہونے کے قریب ہے۔

ادھر امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ دنوں میں بڑھنے والی کشیدگی کے دوران ایک نئی سفارتی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ٹرمپ نے ایران کے خلاف مجوزہ فوجی کارروائی روکنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں میں “نمایاں پیش رفت” ہوئی ہے۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے کسی حتمی معاہدے کی منظوری کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نئے امریکی حملے کی صورت میں خطہ ایک وسیع تر اور زیادہ خطرناک جنگ کی طرف جا سکتا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ حالیہ فوجی کارروائیوں کے بعد جنگ بندی کی صورتحال شدید دباؤ کا شکار ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں، تاہم منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی، اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور دیگر حساس معاملات پر ابھی مزید بات چیت درکار ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی معاہدے میں ایرانی بندرگاہوں پر امریکی دباؤ کم کرنے کی شقیں شامل ہو سکتی ہیں، جبکہ جوہری پروگرام اور یورینیم ذخائر جیسے پیچیدہ معاملات کو مستقبل کے مذاکرات کے لیے مؤخر کیا جا سکتا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں