انڈیا کے پانی کے وزیر نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے پر کام کر رہی ہے کہ آئندہ برسوں میں “ایک قطرہ پانی بھی” پاکستان کی جانب نہ جائے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بھارتی وزیر برائے آبی وسائل سی آر پٹیل نے بھارتی نیوز ایجنسی اے این آئی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ آنے والے وقت میں ایسا نظام بنایا جائے گا جس کے تحت پاکستان کو پانی کی فراہمی مکمل طور پر روک دی جائے گی۔
انہوں نے ہندی زبان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی ہدایات کے بعد حکومت اس منصوبے پر “فعال طور پر کام” کر رہی ہے اور مستقبل میں پاکستان کی طرف پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں جانے دیا جائے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور انڈیا کے درمیان 1960 کا سندھ طاس معاہدہ ایک بار پھر شدید تنازع کا شکار ہے۔ یہ معاہدہ چھ دریاؤں کے پانی کی تقسیم کو منظم کرتا ہے جو انڈیا سے نکل کر پاکستان میں داخل ہوتے ہیں اور دونوں ممالک میں کروڑوں افراد کی زندگی اور زراعت کا انحصار انہی دریاؤں پر ہے۔
پاکستان نے واضح مؤقف اختیار کیا ہے کہ سرحد پار دریاؤں کے بہاؤ کو روکنے یا تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو “جنگی اقدام” تصور کیا جائے گا۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ اب بھی قانونی طور پر نافذ العمل ہے اور اس سے یکطرفہ دستبرداری کا کوئی طریقہ موجود نہیں۔
دوسری جانب انڈیا نے مئی 2025 میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے معاہدے کی رکنیت کو معطل کر دیا ہے، تاہم پاکستان نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب دونوں ممالک کے درمیان چار روزہ جنگی صورتحال پیدا ہوئی، جس میں ڈرونز، میزائلوں اور توپ خانے کا استعمال کیا گیا اور دونوں جانب تقریباً 70 افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد سے پانی کا مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم اور حساس تنازع بن گیا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں پاکستان نے انڈیا پر الزام لگایا ہے کہ وہ پانی کو “ہتھیار” کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، خصوصاً اس وقت جب نئی دہلی نے دریائے چناب کے اس حصے پر مختلف ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا جو اس کے کنٹرول میں ہے۔
بھارتی نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن نے بھی ایک منصوبے کے لیے ٹینڈر جاری کیا ہے جس کے تحت دریائے چناب کے پانی کو بیاس بیسن کی طرف منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اسی طرح توانائی کے شعبے سے متعلق ایک اور منصوبے میں دریا کے بہاؤ میں جمع ہونے والی مٹی اور تلچھٹ کو ہٹانے کی بات بھی سامنے آئی ہے، جسے ماہرین پانی کے بہاؤ کے انتظام کا حصہ قرار دیتے ہیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا کے موجودہ ڈیم فی الحال پانی کے مکمل بہاؤ کو روکنے یا بڑے پیمانے پر موڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، بلکہ وہ صرف پانی کے بہاؤ کو وقتی طور پر کنٹرول کر سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر مستقبل میں ایسے منصوبے مکمل بھی ہو جائیں تو ان کے اثرات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوں گے اور اس میں کئی سال لگ سکتے ہیں، جبکہ کچھ اندازوں کے مطابق مکمل آپریشنل ہونے میں کم از کم پانچ سال درکار ہوں گے۔
ادھر انڈین زیرِ انتظام کشمیر کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ کسی بھی بڑے منصوبے پر عملی کام کا آغاز 2027 سے پہلے ممکن نہیں۔