ایران نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں خلیجی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین، فضائی حدود اور عسکری تنصیبات کو ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ امریکی یا اسرائیلی کارروائی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں، بصورت دیگر اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک اہم بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنے “فطری اور قانونی حقِ دفاع” کے استعمال میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا۔
بیان کے مطابق اگر ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی جاتی ہے تو تہران صرف حملہ آور قوتوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ان مقامات کو بھی ممکنہ ہدف بنا سکتا ہے جہاں سے حملوں کی منصوبہ بندی، معاونت یا لاجسٹک سپورٹ فراہم کی جائے گی۔
ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ حملوں کے منبع، حملوں میں استعمال ہونے والے فوجی اڈے، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور لاجسٹک سہولتیں بھی ایران کے دفاعی ردعمل کی زد میں آ سکتی ہیں۔
وزارت خارجہ کے بیان میں خلیجی ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین یا تنصیبات کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
ایران نے مزید زور دیا کہ خلیجی ریاستیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے علاقے، فضائی حدود، بندرگاہیں یا عسکری تنصیبات ایران کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی، تنظیم، عملدرآمد یا کسی بھی قسم کی معاونت کے لیے استعمال نہ ہوں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ خطے میں امریکی فوجی موجودگی، اسرائیلی سکیورٹی خدشات اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تنازعات نے علاقائی ممالک کو بھی ایک حساس صورتِ حال سے دوچار کر رکھا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ تہران کا حالیہ انتباہ دراصل خلیجی ممالک کو یہ پیغام دینے کی کوشش ہے کہ اگر ان کی سرزمین ایران کے خلاف کسی کارروائی میں استعمال ہوئی تو وہ خود بھی ممکنہ طور پر اس تنازع کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔
ایران کے اس سخت مؤقف کے بعد خطے میں سفارتی سرگرمیوں اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی ہے، جبکہ عالمی برادری مشرقِ وسطیٰ میں مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے تحمل اور مذاکرات پر زور دے رہی ہے۔