بلدیہ فیکٹری میں 264 افراد کے قتل میں ملوث ملزم باعزت بری

فہرستِ مضامین

سپریم کورٹ نے پاکستان کی تاریخ کے بدترین صنعتی سانحات میں سے ایک، بلدیہ فیکٹری آتشزدگی کیس میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے سزائے موت یافتہ مرکزی ملزمان عبدالرحمان عرف بھولا اور زبیر عرف چریا کو بری کر دیا ہے۔
اس فیصلے سے ایم کیو ایم پر لگا ایک سیاہ دہبہ قانونی طور پر ہٹ گیا ہے۔


جسٹس شہزاد ملک کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ملزمان کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی عدالت اور سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔ عدالت نے ایم کیو ایم کی جانب سے عدالتی ریمارکس حذف کرنے کی درخواست بھی غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے نمٹا دی۔
11 ستمبر 2012 کو کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں واقع علی انٹرپرائزز فیکٹری میں لگنے والی آگ میں 264 مزدور ہلاک جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے تھے۔ یہ واقعہ پاکستان کی صنعتی تاریخ کے سب سے بڑے سانحات میں شمار کیا جاتا ہے۔
ابتدائی طور پر واقعے کو حادثہ قرار دیا گیا، تاہم تقریباً ڈھائی سال بعد قائم ہونے والی جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ آگ حادثاتی نہیں بلکہ منصوبہ بندی کے تحت لگائی گئی تھی۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق فیکٹری مالکان سے مبینہ طور پر 20 کروڑ روپے بھتہ طلب کیا گیا تھا اور مطالبہ پورا نہ ہونے پر فیکٹری کو آگ لگا دی گئی۔


رپورٹ میں کہا گیا کہ ایم کیو ایم کے سیکٹر انچارج عبدالرحمان عرف بھولا اور زبیر عرف چریا اس کارروائی میں ملوث تھے۔ جے آئی ٹی نے تکنیکی شواہد، فرانزک رپورٹس اور گواہوں کے بیانات کی بنیاد پر اسے دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا تھا۔
بعد ازاں انسداد دہشت گردی عدالت نے 2020 میں عبدالرحمان بھولا اور زبیر چریا کو سزائے موت سنائی جبکہ چار دیگر ملزمان کو عمر قید کی سزا دی گئی۔ سندھ ہائی کورٹ نے بھی سزائے موت برقرار رکھی تھی۔ رحمان بھولا کو بینکاک اور زبیر چریا کو سعودی عرب سے گرفتار کرکے لایا گیا تھا۔
ہائی کورٹ نے ملزمان کی اپیلیں مسترد کردی تھیں ۔ تاہم اب سپریم کورٹ نے دونوں مرکزی ملزمان کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے انہیں بری کر دیا ہے، جس کے بعد تقریباً چودہ سال پرانے اس مقدمے نے ایک نیا قانونی موڑ اختیار کر لیا ہے۔
بلدیہ فیکٹری سانحہ آج بھی پاکستان کی تاریخ کے ان واقعات میں شمار ہوتا ہے جس میں سیکڑوں خاندانوں نے اپنے پیاروں کو کھویا، اور جس کے قانونی انجام پر برسوں سے نظریں جمی ہوئی تھیں۔ اس فیصلے سے یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا سندھ حکومت نے درست انداز میں پیروی نہیں کی اور شہادتیں کمزور پڑ گئیں یا کسی سیاسی مصحلت پسندی کا سہارا لیا گیا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں