اسلام آباد: وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کو ریلیف دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے ان کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ منظوری وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اہم اجلاس میں دی گئی، جہاں بجٹ دستاویزات اور فنانس بل کے مسودے کی بھی توثیق کی گئی۔
ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس کے دوران سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی مختلف تجاویز زیر غور آئیں، جس کے بعد مجموعی طور پر 7 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ تنخواہوں میں اضافہ دو مختلف مراحل یا کیٹیگریز کے تحت نافذ کیا جائے گا تاکہ کم آمدنی والے ملازمین کو نسبتاً زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گریڈ ایک سے گریڈ 16 تک کے ملازمین کو تنخواہوں میں نسبتاً زیادہ فائدہ پہنچے گا، جبکہ اعلیٰ گریڈز کے افسران کے لیے اضافہ محدود رکھا جائے گا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ موجودہ مہنگائی کے پیش نظر نچلے اور متوسط درجے کے سرکاری ملازمین کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا ضروری ہے۔
وفاقی کابینہ نے اجلاس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ اور فنانس بل کے مسودے کی منظوری بھی دی، جس کے بعد بجٹ کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی راہ ہموار ہو گئی۔ حکومتی حلقوں کے مطابق نئے بجٹ میں مالی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ عوام اور سرکاری ملازمین کو ریلیف دینے کے لیے مختلف اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب سرکاری ملازمین کی مختلف تنظیموں نے تنخواہوں میں اضافے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے، تاہم بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ مہنگائی کی شرح کے مقابلے میں یہ اضافہ ناکافی ہے اور ملازمین کو مزید ریلیف دیے جانے کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے سرکاری ملازمین کی جانب سے تنخواہوں اور الاؤنسز میں خاطر خواہ اضافے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا، جبکہ بجٹ سے قبل مختلف تجاویز میں 6 سے 10 فیصد تک اضافے کی سفارشات زیر غور تھیں۔ حکومت کی جانب سے 7 فیصد اضافے کی منظوری کو بجٹ 2026-27 کے اہم اعلانات میں شمار کیا جا رہا ہے۔