ایران نے تباہ شدہ امریکی طیاروں کا ملبہ نمائش کے لیے پیش کردیا

فہرستِ مضامین

ایران نے امریکا کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران تباہ ہونے والے امریکی اور اسرائیلی طیاروں کے ملبے کو عوامی نمائش کے لیے پیش کر دیا ہے۔ ایرانی میڈیا کی جانب سے جاری تصاویر اور ویڈیوز میں ملبے کو ایک خصوصی نمائش میں رکھا گیا دکھایا گیا ہے، جسے ایرانی حکام جنگ کے دوران حاصل ہونے والی فوجی کامیابیوں کی علامت کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے پیش کی گئی اس نمائش میں امریکی طیاروں کے مختلف حصے شامل ہیں۔ ان میں ایک امریکی F-15E اسٹرائیک ایگل کے ملبے کے ساتھ پائلٹ کی ایجیکشن سیٹ، طیارے کی کھڑکی یا کینوپی کا حصہ اور دم کا ایک ٹکڑا بھی دکھایا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق نمائش میں امریکی MQ-1 اور MQ-9 ڈرونز کے ملبے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ بعض تصاویر میں طیاروں اور ڈرونز کے تباہ شدہ حصے زیرِ زمین بنائے گئے ہالز میں ترتیب سے رکھے ہوئے نظر آتے ہیں۔

ایرانی میڈیا نے اس نمائش کو ایسے وقت میں نمایاں کیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے بعد کشیدگی، مذاکرات اور جنگ بندی کے امکانات پر عالمی سطح پر توجہ مرکوز ہے۔ تہران اس نمائش کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ امریکی فضائی برتری کے باوجود ایرانی دفاعی نظام نے امریکی فوجی اثاثوں کو نقصان پہنچایا۔

امریکی فضائی طاقت کو چیلنج کرنے کا دعویٰ

ایران کا مؤقف ہے کہ جنگ کے دوران اس کی فضائی دفاعی صلاحیتوں نے امریکی طیاروں اور ڈرونز کو نشانہ بنایا۔ تاہم امریکی حکام کی جانب سے ایران کے تمام دعووں کی تصدیق نہیں کی گئی، اس لیے نمائش میں موجود ہر ملبے کو ایرانی حملے کا نتیجہ قرار دینا آزادانہ طور پر ممکن نہیں۔

دوسری جانب جنگ کے دوران امریکی فوج نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی کارروائیاں کیں اور امریکی حکام نے آپریشن میں پیش رفت کے دعوے بھی کیے تھے۔

ایرانی حکام کی جانب سے امریکی طیاروں کے ملبے کی نمائش کوئی نئی روایت نہیں۔ ماضی میں بھی ایران نے امریکی فوجی کارروائیوں کے دوران گرنے یا تباہ ہونے والے امریکی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کے ملبے کو عوام کے سامنے پیش کیا ہے۔

ملبہ نمائش میں کیوں لایا گیا؟

ماہرین کے مطابق جنگ میں تباہ ہونے والے جدید فوجی طیاروں کے ملبے کی نمائش محض ایک میوزیم سرگرمی نہیں بلکہ اس کے واضح سیاسی اور نفسیاتی اثرات بھی ہوتے ہیں۔ ایران اسے اپنی عوام کے لیے مزاحمت اور دفاع کی علامت کے طور پر پیش کر سکتا ہے، جبکہ امریکا کے مقابلے میں اپنی عسکری صلاحیت کا پیغام بھی دینا چاہتا ہے۔

حالیہ نمائش میں امریکی F-15E کے ملبے کی موجودگی خاص طور پر توجہ کا مرکز بنی ہے۔ دی ایوی ایشن کے مطابق دستیاب ملبے کی تصاویر سے اس طیارے کی شناخت F-15E اسٹرائیک ایگل کے طور پر کی گئی ہے۔

یوں جنگ کے میدان میں ہونے والی کارروائیوں کے بعد تباہ شدہ امریکی طیاروں کا ملبہ اب ایران کے لیے ایک نئے محاذ—یعنی جنگی بیانیے اور نفسیاتی جنگ—کا حصہ بن گیا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں