کراچی: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے اعلان کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی ختم کیے جانے تک دھرنے ختم نہیں کیے جائیں گے، جبکہ 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا بھی اعلان کردیا۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ اسلام آباد میں کنٹینرز لگا کر جماعت اسلامی کا مارچ نہیں روکا جاسکتا، ان کے پاس احتجاج کے لیے پلان اے، بی اور سی موجود ہیں۔
انہوں نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بہتر ہے حکومت حالات خراب نہ کرے اور اسلام آباد میں عوام کے معمولات زندگی سکون سے جاری رہنے دے۔
حافظ نعیم نے پنجاب میں سرکاری طیارے کے مبینہ نجی استعمال پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ طیارے کے استعمال اور خریداری کا آڈٹ ہونا چاہیے، یہ بھی دیکھا جائے کہ طیارہ کب، کیسے اور کیوں خریدا گیا۔
امیر جماعت اسلامی نے ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر تنقید کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا حکومت نے ٹرانسپورٹ کے کرائے کم کیے ہیں؟ کیا کرایوں میں کمی کی بھی کوئی ایپ موجود ہے؟ انہوں نے ریلوے میں عوام کو دی جانے والی سہولیات اور ریلیف پر بھی سوال اٹھایا۔
حافظ نعیم نے کہا کہ کسی بھی صورت لاک ڈاؤن قابل قبول نہیں۔
حکومت سے مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ آج شام 6 بجے مذاکرات کا ایک اور دور ہوگا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اگر پیٹرولیم لیوی کم کردی جائے تو آمدنی میں کمی پوری کیسے ہوگی، تاہم جماعت اسلامی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا مکمل فارمولا حکومت کے سامنے پیش کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت جواب میں صرف پریزنٹیشن دے رہی ہے، اگر مذاکرات میں اسی طرح معاملات کو طول دیا گیا تو اپنی ٹیم کو مذاکرات ختم کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان کردیا گیا ہے اور اب فیصلے سڑکوں پر ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیٹرولیم لیوی ختم کیے بغیر دھرنے ختم نہیں کیے جائیں گے۔