آبنائے ہرمز کی بندش: کن ممالک کو سب سے زیادہ نقصان ہوگا؟

فہرستِ مضامین

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی کی منڈیوں کو ایک نئے بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں امریکی فوج کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی طرف جانے اور وہاں سے آنے والے بحری جہازوں کو روکنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں روزانہ تقریباً 20 لاکھ بیرل تیل کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے عالمی رسد میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی جب اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ اور ایران کے مذاکرات کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔ مذاکرات کی ناکامی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس اہم گزرگاہ سے گزرنے والے تمام جہازوں کو روکا جائے گا۔

اس اعلان پر ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے پاسدارانِ انقلاب کے ذریعے خبردار کیا کہ اگر امریکی بحری جہاز آبنائے ہرمز کے قریب آئے تو اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ اس تناؤ نے خطے میں کسی بھی ممکنہ تصادم کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

تیل کی عالمی ترسیل پر اس صورتحال کے اثرات فوری طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ توانائی ڈیٹا فراہم کرنے والے اداروں کے مطابق ایران کی برآمدات میں رکاوٹ عالمی منڈی کے ایک بڑے ذریعے کو متاثر کرے گی۔ مارچ میں ایران نے یومیہ تقریباً 1.24 ملین بیرل تیل فراہم کیا، جبکہ اپریل میں یہ مقدار بڑھ کر 1.71 ملین بیرل تک پہنچ گئی۔ سال 2025 کے دوران ایران کی اوسط برآمدات 1.68 ملین بیرل یومیہ رہی تھیں، جو جنگ شروع ہونے سے قبل پیداوار میں اضافے کے باعث ایک ریکارڈ سطح تک جا پہنچی تھیں۔

دوسری جانب زمینی حقائق بھی تیزی سے بدل رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے علاقے حمریہ سے روانہ ہونے والا ایک چینی آئل ٹینکر امریکی اعلان کے بعد آبنائے ہرمز عبور کرنے والا پہلا جہاز بنا، جبکہ اس کے ساتھ دو مزید جہاز بھی اسی راستے سے گزرے۔ اسی دوران پاکستان کے دو جہاز بھی اتوار کے روز اس گزرگاہ سے نکلنے میں کامیاب ہوئے، جبکہ مالٹا سے تعلق رکھنے والا ایک ٹینکر صورتحال کے پیش نظر اپنا رخ موڑ کر خلیج عمان کی طرف چلا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق سات اپریل تک خلیج کے اندر 187 جہاز موجود تھے جو تقریباً 172 بلین بیرل خام اور ریفائنڈ تیل لے جا رہے تھے، جو اس خطے کی عالمی توانائی میں اہمیت کو واضح کرتا ہے۔

برآمدات کے حوالے سے دیکھا جائے تو چین سب سے زیادہ متاثر ہو سکتا ہے، کیونکہ جنگ سے پہلے ایرانی تیل کا بڑا حصہ وہیں بھیجا جا رہا تھا اور وہ دنیا کا سب سے بڑا تیل درآمد کرنے والا ملک ہے۔ حالیہ مہینوں میں امریکی پابندیوں میں نرمی کے بعد بھارت اور دیگر کچھ ممالک نے بھی ایرانی تیل کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی تھی، اور اطلاعات کے مطابق بھارت سات سال بعد ایران سے خام تیل کی نئی کھیپ وصول کرنے والا تھا۔

یاد رہے کہ جنگ سے پہلے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس سے متعلق تجارت آبنائے ہرمز کے راستے ہوتی تھی، جس کا بڑا حصہ ایشیائی ممالک کو جاتا تھا۔ موجودہ صورتحال نہ صرف توانائی کی فراہمی بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے، کیونکہ اس اہم گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈیوں میں قیمتوں اور سپلائی چین دونوں کو متاثر کر سکتی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں