اسرائیلی عدالتی ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف طویل عرصے سے چل رہے کرپشن کیس کی سماعت اتوار سے بحال ہو جائے گی۔ یہ اہم خبر ایران کے ساتھ جاری جنگ کی وجہ سے نافذ کی گئی ہنگامی حالت ختم ہونے کے چند گھنٹوں بعد سامنے آئی ہے۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو ایران نے اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا حملہ کیا تھا۔ اس سے پہلے اسرائیل اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر فضائی حملے کیے تھے۔ ان حملوں کا مقصد ایران کی بیرون ملک مداخلت روکنا، اس کے جوہری پروگرام کو ختم کرنا اور حکمران قیادت کے خلاف بغاوت کو ہوا دینا بتایا گیا تھا۔
ہنگامی حالت کے دوران سکولوں اور کام کی جگہوں کو بند کر دیا گیا تھا۔ بدھ کی شام یہ حالت ختم کر دی گئی، کیونکہ جنگ بندی کے بعد مقامی وقت کے مطابق صبح تین بجے کے بعد ایران کی جانب سے کوئی نیا میزائل حملہ نہیں ہوا۔ تاہم لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی جاری بڑے پیمانے پر کارروائیوں نے اس جنگ بندی کو ایک بار پھر شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
اسرائیلی وزارتِ انصاف نے جاری بیان میں کہا کہ ’’ہنگامی حالت کے خاتمے اور عدالتی نظام کی بحالی کے ساتھ ہی تمام عدالتی سماعتیں معمول کے مطابق دوبارہ شروع ہو جائیں گی۔‘‘ بیان کے مطابق مقدمے کی کارروائی اتوار سے بدھ تک جاری رہے گی۔
بنیامین نیتن یاہو اسرائیل کے پہلے وزیرِ اعظم ہیں جن پر اپنے دورِ حکومت میں باقاعدہ فردِ جرم عائد ہوئی۔ وہ 2019 میں شروع ہونے والی تفتیش کے بعد رشوت، فراڈ اور بداعتمادی کے الزامات کو مسترد کرتے آئے ہیں۔
یہ مقدمہ 2020 میں شروع ہوا تھا اور اس میں قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم سرکاری ذمہ داریوں کی وجہ سے سماعت میں بار بار تاخیر ہوتی رہی اور ابھی تک اس کے مکمل ہونے کی کوئی واضح تاریخ نہیں بتائی گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی نیتن یاہو کے مطالبے کی حمایت کی ہے کہ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ انہیں معافی دے دیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ عدالت میں بار بار پیشی نیتن یاہو کے سرکاری فرائض کو متاثر کر رہی ہے۔
صدر ہرزوگ کے دفتر نے بتایا ہے کہ وزارتِ انصاف متعلقہ محکمہ مختلف رائے جمع کر کے صدر کے قانونی مشیر کے پاس پیش کرے گا، جو معمول کے طریقہ کار کے تحت سفارشات دے گا۔ عام طور پر مقدمے کی سماعت کے دوران معافی نہیں دی جاتی۔
نیتن یاہو پر لگے الزامات اور اکتوبر 2023 میں حماس کے اسرائیل پر حملے نے ان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اکتوبر میں ہونے والے انتخابات میں نیتن یاہو کا اتحاد شکست کا سامنا کر سکتا ہے۔ یہ اتحاد اسرائیل کی تاریخ کا سب سے زیادہ دائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والا اتحاد سمجھا جاتا ہے۔