اسلام آباد: صدرِ پاکستان نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں، قومی اسمبلی اور سینیٹ، کے اجلاس کل طلب کر لیے ہیں جبکہ آئندہ مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی سفارش پر قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس بلانے کی منظوری دی۔ اس فیصلے کے بعد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بجٹ اجلاسوں اور آئندہ مالی سال کی حکومتی پالیسیوں پر بحث کے لیے تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں۔
شیڈول کے مطابق سینیٹ کا اجلاس کل سہ پہر 4 بجے جبکہ قومی اسمبلی کا اجلاس شام 5 بجے منعقد ہوگا۔ ان اجلاسوں میں بجٹ سیشن کے طریقہ کار، حکومتی قانون سازی اور دیگر اہم قومی امور پر غور کیا جائے گا۔
بجٹ 12 جون کو پیش ہونے کا امکان
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں بتایا کہ وفاقی بجٹ جمعہ 12 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب مالی سال 2026-27 کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کریں گے، جس میں حکومت کی آمدن، اخراجات، ترقیاتی منصوبوں، ٹیکس پالیسی اور اقتصادی اہداف کا تفصیلی خاکہ پیش کیا جائے گا۔
بجٹ پر نظریں مرکوز
حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے بجٹ کو موجودہ معاشی صورتحال کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ اقتصادی ماہرین، کاروباری حلقے، صنعت کار، سرمایہ کار اور عام شہری بجٹ تجاویز کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں، کیونکہ آئندہ مالی سال کی معاشی سمت کا تعین اسی بجٹ سے ہوگا۔
ذرائع کے مطابق حکومت محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے میں کمی، ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز اور عوامی ریلیف کے اقدامات کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسی طرح سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، پنشن، توانائی کے شعبے، زراعت، صنعت اور سماجی بہبود کے پروگراموں سے متعلق اعلانات بھی بجٹ کا اہم حصہ ہو سکتے ہیں۔
پارلیمانی سرگرمیوں میں تیزی
پارلیمنٹ کے اجلاس طلب ہونے کے بعد اسلام آباد میں سیاسی سرگرمیوں میں بھی تیزی آ گئی ہے۔ حکومتی اور اپوزیشن جماعتیں بجٹ سیشن کے لیے اپنی حکمتِ عملی مرتب کر رہی ہیں، جبکہ بجٹ پیش ہونے کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اس پر تفصیلی بحث متوقع ہے۔
پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ منظوری کے عمل کے دوران حکومت کو اپنی اقتصادی پالیسیوں کا دفاع کرنا ہوگا جبکہ اپوزیشن کی جانب سے مہنگائی، ٹیکسوں اور عوامی مسائل پر سخت سوالات اٹھائے جانے کا امکان ہے۔