ہندو مذہبی وفد کے دورے پر خواتین ملازمین کو ہٹانے پر فرانس میں ہنگامہ

فہرستِ مضامین

پیرس: فرانس کے مشہور ایفل ٹاور پر ہندو مذہبی تنظیم کے وفد کے دورے کے موقع پر خواتین ملازمین کو ان کی ڈیوٹی کی جگہوں سے ہٹا کر مرد ساتھیوں کو تعینات کرنے کے معاملے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

فرانسیسی میڈیا کے مطابق ہندو مذہبی تنظیم بوچاسانواسی اکشر پرشوتَم سوامی نارائن سنستھا (BAPS) سے وابستہ تقریباً 100 افراد پر مشتمل وفد نے ہفتے کے روز ایفل ٹاور کا دورہ کیا۔

ایفل ٹاور کے عملے کی یونین کی نمائندہ ڈیان داوینے نے بتایا کہ خواتین ملازمین کو اپنی کام کی جگہیں چھوڑنے کے لیے کہا گیا، جس پر انہیں ’’توہین آمیز‘‘ صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ احتجاج کے طور پر ملازمین نے پیر کو ہڑتال کی، جس کے باعث ایفل ٹاور بند رہا۔

BAPS ایک ہندو مذہبی تحریک ہے جس کی مذہبی روایات 18ویں صدی کی تعلیمات سے منسلک ہیں۔ تنظیم مردوں اور خواتین کے درمیان علیحدگی پر سختی سے عمل کرتی ہے، جس میں مندروں کی سرگرمیوں اور عمارتوں کے داخلی راستوں سے متعلق انتظامات بھی شامل ہیں۔

ایفل ٹاور کا انتظام چلانے والی کمپنی کے صدر ایریل ویل نے واقعے کی ذمہ داری انتظامیہ پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکام وفد کی درخواست پر عمل درآمد کرتے ہوئے ’’ضرورت سے زیادہ جوش‘‘ میں آگئے اور یہ غور نہیں کیا کہ اس طرح کی ہدایات نامناسب ہوسکتی ہیں۔

پیرس سینٹر کے میئر بھی رہنے والے ایریل ویل نے فرانسیسی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں واقعے کو ’’انتہائی حیران کن اور ناقابل قبول‘‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ داخلی تحقیقات کے ذریعے یہ معلوم کیا جائے گا کہ خواتین ملازمین کے لیے یہ شرائط کس نے عائد کیں اور مستقبل میں اس طرح کا واقعہ دوبارہ پیش نہ آنے کو یقینی بنایا جائے گا۔

ایفل ٹاور کے ملازمین کے مطابق ہفتے کے روز وفد کی موجودگی کے دوران خواتین عملے کو بعض مخصوص علاقوں سے گزرنے یا انہیں عبور کرنے سے بھی روکنے کی ہدایات دی گئی تھیں۔

یونین نمائندہ ڈیان داوینے کے مطابق اس معاملے پر ہفتے کے اختتام تک کشیدگی بڑھ گئی، جس کے بعد ملازمین نے پیر کی صبح انتظامیہ سے بات چیت اور آئندہ خواتین کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ نہ ہونے کو یقینی بنانے کے لیے اجلاس کیا۔

ایفل ٹاور کا انتظام چلانے والی کمپنی SETE نے بھی کہا ہے کہ خواتین عملے پر عائد کی گئی یہ پابندیاں کمپنی کی اقدار اور مرد و خواتین کے درمیان مساوات کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

دوسری جانب BAPS نے اپنے مؤقف میں کہا کہ وفد کا ایفل ٹاور کا دورہ معمول کے اوقاتِ کار کے آغاز پر انتظامیہ کے ساتھ مل کر اس مقصد سے ترتیب دیا گیا تھا کہ دوسرے سیاحوں کو کسی قسم کی دشواری یا خلل کا سامنا نہ ہو۔

تنظیم نے واقعے کے نتیجے میں کسی بھی تکلیف یا زحمت پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ باہمی احترام اور خدمت کی عالمی اقدار پر یقین رکھتی ہے۔

BAPS کے مطابق تنظیم ایک رضاکارانہ اور روحانی تحریک ہے جو ہندو اقدار کے ذریعے معاشرے کی بہتری کے لیے کام کرتی ہے۔ اس کے لندن، لاس اینجلس اور سڈنی سمیت دنیا کے مختلف بڑے شہروں میں مندر موجود ہیں۔

تنظیم کی مذہبی تعلیمات بھگوان سوامی نارائن سے منسلک ہیں، جو 18ویں صدی کے اواخر کے ایک برہمچاری سادھو تھے اور ان کے پیروکار انہیں ہندو مذہب کے دیوتا وشنو کا اوتار تصور کرتے ہیں۔

BAPS کا کہنا ہے کہ مردوں اور خواتین کے درمیان علیحدگی کا مقصد خواتین کے لیے سہولت اور تحفظ فراہم کرنا ہے، تاہم ناقدین کا مؤقف ہے کہ 18ویں صدی کی مذہبی روایات کو آج کے معاشرے میں خواتین کے حقوق محدود کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا اور اس نوعیت کی پابندیاں امتیازی سلوک کے زمرے میں آتی ہیں۔

واقعے پر فرانس کے متعدد سیاسی رہنماؤں نے بھی شدید ردعمل کا اظہار کیا۔

فرانسیسی قومی اسمبلی کی صدر یائل براؤن پیویے نے کہا کہ وہ کسی صورت یہ قبول نہیں کریں گی کہ غیر ملکی مہمانوں کے مطالبات پورے کرنے کے لیے خواتین کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جائے۔

فرانس کی دائیں بازو کی رہنما میرین لے پین نے بھی کہا کہ فرانس میں خواتین کی موجودگی یا ان کے کردار کو ’’محدود‘‘ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

سابق فرانسیسی وزیراعظم گیبریئل اٹل نے کہا کہ فرانس میں کوئی ثقافت، عقیدہ یا عبادت کسی بھی صورت خواتین کے مقام کا تعین کرنے کا حق نہیں رکھتی۔

یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب BAPS نے اتوار کے روز پیرس کے نواحی علاقے میں فرانس میں اپنا پہلا بڑا مندر بھی باقاعدہ طور پر مذہبی رسومات کے ساتھ کھولا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں