سعودی توانائی تنصیبات پر حملے، عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہوگیا

فہرستِ مضامین

ایرانی حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں کے سعودی عرب کی توانائی تنصیبات پر حملوں اور ایران کی جانب سے امریکا کو ’اقتصادی جنگ‘ کی دھمکی کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں کئی ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق منگل کو پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 2 بج کر 56 منٹ پر برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.39 ڈالر یعنی 1.43 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 98.39 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔

اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 2.25 ڈالر یعنی 2.46 فیصد اضافے کے بعد 93.73 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا۔

کاروباری سرگرمیوں کے دوران برینٹ کی قیمت 99.46 ڈالر فی بیرل تک بھی پہنچ گئی، جو 24 جولائی کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 94.73 ڈالر فی بیرل تک گیا، جو 8 جون کے بعد کی بلند ترین سطح قرار دی جا رہی ہے۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ سعودی عرب میں حوثیوں کے حالیہ حملے اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ منگل کو حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں میں 73 افراد کے زخمی ہونے کے بعد بعض توانائی تنصیبات پر سرگرمیاں بھی معطل کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

دوسری جانب ایران نے امریکا کو ’اقتصادی جنگ‘ کی دھمکی دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی جنگی جہازوں پر جدید میزائل داغا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باعث خطے میں مزید فوجی کارروائیوں کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ دنوں دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف دوبارہ حملے کیے گئے۔ ہفتے کے روز امریکی فوج کی مرکزی کمانڈ سینٹکام نے ایران کے تین تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جن میں سے ایک جہاز خارگ جزیرے کے قریب موجود تھا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے خطے میں موجود امریکی جنگی جہازوں پر حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمد و رفت بھی رواں ہفتے کے آغاز سے سست پڑ گئی ہے۔ ایران نے پیر کو خبردار کیا تھا کہ امریکا کی جانب سے مزید حملوں کی صورت میں وہ جوابی کارروائی کرے گا۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔ موجودہ تنازع شروع ہونے سے قبل دنیا بھر میں روزانہ سپلائی ہونے والے خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا تقریباً پانچواں حصہ اسی راستے سے منتقل ہوتا تھا۔

ماہرین کے مطابق خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے اور آبنائے ہرمز سے توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کی صورت میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ آنے کا خدشہ ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں