اسلام آباد: گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھرنے والی پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومت سازی کے لیے اپنی سیاسی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں، جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والے ارکان کو ساتھ ملا کر حکومت تشکیل دینے پر غور کر رہی ہے۔
سیاسی ذرائع کے مطابق انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس صورتحال میں پیپلز پارٹی کو سب سے بڑی جماعت ہونے کے باعث حکومت بنانے کے لیے مضبوط پوزیشن حاصل ہے، تاہم سادہ اکثریت یقینی بنانے کے لیے آزاد ارکان کی حمایت اہم سمجھی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری آئندہ چند روز میں گلگت بلتستان کا اہم دورہ کر سکتے ہیں، جہاں وہ نومنتخب ارکان، پارٹی رہنماؤں اور دیگر سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس دورے کے دوران حکومت سازی کے معاملات اور سیاسی اتحادوں کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔
آزاد ارکان سے رابطوں کا امکان
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت آزاد امیدواروں کو اپنی صفوں میں شامل کرنے یا ان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق گلگت بلتستان کی سیاست میں آزاد ارکان اکثر حکومت سازی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے ان کی حمایت کسی بھی جماعت کے لیے انتہائی اہم ہوتی ہے۔
اس حوالے سے پیپلز پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات ندیم افضل چن نے کہا کہ ابھی تک حکومت سازی کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کوشش کرے گی کہ آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والے ارکان کو اپنے ساتھ ملایا جائے تاکہ ایک مستحکم حکومت قائم کی جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انتخابات میں عوام نے پیپلز پارٹی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور پارٹی اس مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے گلگت بلتستان میں ایسی حکومت بنانا چاہتی ہے جو عوامی مسائل کے حل اور خطے کی ترقی کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکے۔
سب سے بڑی جماعت ہونے کا فائدہ
گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات میں پیپلز پارٹی نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کر کے اپنی سیاسی برتری ثابت کی ہے۔ انتخابی نتائج کے بعد پارٹی حکومت سازی کے عمل میں مرکزی حیثیت اختیار کر چکی ہے، جبکہ دیگر سیاسی جماعتیں بھی ممکنہ اتحادوں اور سیاسی حکمت عملی پر غور کر رہی ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پیپلز پارٹی آزاد ارکان کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اسے حکومت بنانے کے لیے واضح برتری حاصل ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب مخالف جماعتیں بھی حکومت سازی کے لیے ممکنہ اتحادوں پر کام کر رہی ہیں، جس کے باعث آئندہ چند روز گلگت بلتستان کی سیاست میں انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
حکومت سازی پر نظریں
انتخابی نتائج کے بعد اب تمام نظریں حکومت سازی کے مرحلے پر مرکوز ہیں۔ عوام اور سیاسی حلقے اس انتظار میں ہیں کہ گلگت بلتستان کا اگلا وزیر اعلیٰ کون ہوگا اور نئی حکومت کس سیاسی اتحاد کے تحت تشکیل پائے گی۔
ذرائع کے مطابق آنے والے دنوں میں سیاسی ملاقاتوں، مشاورت اور رابطوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے، جبکہ بلاول بھٹو زرداری کے متوقع دورے کو حکومت سازی کے عمل میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔