اسلام آباد بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی: محسن نقوی

فہرستِ مضامین

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد کو بند کرنے یا احتجاج کے نام پر دارالحکومت پر دھاوا بولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے پاکستان تحریک انصاف کی 27 ستمبر کی احتجاجی کال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ آچکا ہے اور اس پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پہلے توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے گی، جبکہ قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں کو واضح ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنا ہر شہری کا حق ہے، تاہم کسی کو شہریوں کے راستے بند کرنے یا انہیں مشکلات میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اپنے علاقوں اور شہروں میں احتجاج کرسکتی ہیں، لیکن اسلام آباد کو بند کرنا یا احتجاج کے نام پر دارالحکومت پر حملہ کرنا قابل قبول نہیں ہوگا۔

محسن نقوی نے مزید کہا کہ سیاسی سرگرمیوں کے دوران جلوس اور مظاہرے ہوتے ہیں، تاہم امن و امان برقرار رکھنا ضروری ہے۔ کسی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں اس کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ملک پہلے ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہے، اس لیے سیاسی احتجاج کے بجائے توجہ دہشت گردی کے خاتمے پر ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق گزشتہ احتجاج کے دوران بھی نقصان ہوا تھا اور کسی مسلح گروہ کو دارالحکومت لانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

انہوں نے اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے نکالا جاسکتا ہے اور حکومت پارلیمنٹ میں تمام معاملات پر بات کرنے کے لیے تیار ہے۔

محسن نقوی نے اپوزیشن رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ موجودہ صورتحال کو سمجھیں اور احتجاج کے فیصلے پر نظرثانی کریں، کیونکہ احتجاج اور دھرنوں سے ملک، صوبوں اور عوام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ حکومت ملک میں امن و امان خراب نہیں ہونے دے گی اور اسلام آباد کی جانب کسی بھی ایسی پیش قدمی کو روکنے کے لیے قانونی اور انتظامی اقدامات کیے جائیں گے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں