سندھ میں 40 لاکھ 80 ہزار سے زائد بچیاں اسکولوں سے باہر، صنفی مساوات رپورٹ میں انکشاف

فہرستِ مضامین

کراچی: سندھ کی پہلی صنفی مساوات رپورٹ میں صوبے میں لڑکیوں کی تعلیم، خواتین کی ملازمت، صحت اور معاشی شرکت سے متعلق اہم اعداد و شمار سامنے آگئے۔

رپورٹ کے مطابق سندھ میں 40 لاکھ 80 ہزار سے زائد بچیاں اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ 5 سے 16 سال کی عمر کی لاکھوں بچیوں کا تعلیم سے محروم رہنا تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سندھ میں مردوں کی شرحِ خواندگی 68 فیصد جبکہ خواتین کی شرحِ خواندگی 47 فیصد ہے۔ دیہی سندھ میں خواتین کی شرحِ خواندگی مزید کم ہوکر صرف 27.52 فیصد رہ جاتی ہے۔

صنفی مساوات رپورٹ میں لڑکیوں کے اسکولوں میں داخلے اور تعلیم کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ صوبے کے تعلیمی شعبے میں صنفی فرق اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

رپورٹ کے مطابق سندھ میں زچگی کے دوران خواتین کی اموات کی شرح میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ایک لاکھ کیسز میں زچگی کے دوران اموات کی شرح 314 سے کم ہوکر 224 ہوگئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سندھ میں صحت کے لیے مختص بجٹ میں مسلسل اضافہ ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم صنفی تشدد کے واقعات میں خواتین کے تحفظ کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

خواتین کی معاشی شرکت میں اضافہ

سندھ میں خواتین کی معاشی اور سیاسی شرکت سے متعلق بھی رپورٹ میں اہم اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق صوبے میں خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن ایک کروڑ 20 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے، جبکہ خواتین کی ملازمتوں کی تعداد 24 لاکھ 80 ہزار سے بڑھ کر 33 لاکھ 20 ہزار ہوگئی۔

خواتین کی افرادی قوت میں شرکت کی شرح بھی 43.8 فیصد سے بڑھ کر 46.2 فیصد ہوگئی ہے، تاہم رپورٹ کے مطابق معاشی شرکت میں بہتری کے باوجود خواتین کو اب بھی متعدد رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

رپورٹ میں خواتین کے لیے باعزت روزگار تک رسائی بہتر بنانے اور ڈیجیٹل سہولیات تک محدود رسائی کی رکاوٹ دور کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کی اصلاحات کی ہدایت

سندھ کی پہلی صنفی مساوات رپورٹ معاون خصوصی برائے انسانی حقوق راجویر سنگھ سوڈھا نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو پیش کی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے صوبے میں صنفی مساوات کے لیے اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خواتین اور بچیوں کے لیے مساوی مواقع یقینی بنانا ضروری ہے۔

مراد علی شاہ کے مطابق صنفی مساوات سندھ حکومت کے ترقیاتی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے اور جینڈر پیریٹی رپورٹ پالیسی سازی اور وسائل کی تقسیم میں رہنمائی فراہم کرے گی۔

وزیراعلیٰ نے صوبائی محکموں کو رپورٹ کی سفارشات کی روشنی میں پالیسیاں تشکیل دینے اور صنفی بنیادوں پر الگ اعداد و شمار جمع کرنے کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ہدایت بھی کی۔

انہوں نے خواتین کو مالی شمولیت، ہنر سیکھنے اور کاروباری مواقع فراہم کرنے پر بھی زور دیا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں