اصفہان یونیورسٹی کا کھلونا ڈرون جس نے ایران کو عالمی برتری تک پہنچایا

فہرستِ مضامین

تحریر: فہمیدہ ریاض

ایران کی اصفہان یونیورسٹی کے طالب علموں نے جب پہلی بار ڈرونز بنائے تو ہر کسی نے ان کا مذاق اڑایا اور بعد میں یہ ہی ڈرونز ترقی کرتے کرتے اس قدر مفید ثابت ہوئے کہ پہلے عراق پھر اسرائیل ، امریکہ اور عرب دنیا کو حیرت میں ڈال دیا اور یوں روس نے بھی ایران سے ڈرونز خرید کیئے۔

عالمی پابندیوں اور مشکلات کے باوجود ایران نے یہ ٹیکنالوجی کیسے حاصل کی اور کیسے اسے دنیا کے مقابلے کا معیار دیا آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔

کراچی میں جب دفاعی ساز و سامان کی نمائش آئیڈیاز لگتی ہے تو اس میں ایران کے بھی اسٹال ہوتے ہیں جن میں ڈرونز بھی شامل ہوتے ہیں لیکن ہر کسی کےذہن میں یہ سوال ہوتا ہے کہ ان کے پاس کوئی پرانی ٹیکنالوجی ہوگی یا کہیں سے کاپی کی گئی ہوگی لیکن حالیہ جنگ نے یہ تصور ہی تبدیل کردیا ہے۔

انقلاب ایران کے بعد  1979 جب شاہ محمد رضا پہلوی ملک چھوڑ کر روانہ ہوئے تو اپنے پیچھے ایک ایسی فوج چھوڑ گئے جو اسلحے کے اعتبار سے خطے کی سب سے طاقتور فوج سمجھی جاتی تھی۔

ایرانی فضائیہ اس وقت ایف فورٹین  ٹام کیٹ، ایف  فور فینٹم اور ایف  فائیو ٹائیگر جیسے جدید طیاروں سے لیس تھی جن کا انحصار امریکہ پر تھا، اس دور میں، عسکری سازوسامان کے لحاظ سے ایرانی فوج۔ امریکہ، سوویت یونین، برطانیہ اور فرانس کے بعد دنیا میں پانچویں نمبر پر تھی۔لیکن انقلاب ایران کے بعد امریکی انجینیئرز اور دوسرا عملہ ایران سے روانہ ہو گئے ۔

نتیجے میں ایران نے جن اربوں ڈالر مالیت کے طیارے خریدے تھے، وہ دیکھ بھال اور پرزہ جات کی عدم دستیابی کے باعث محض ناکارہ بن کر رہ گئے۔

ستمبر 1980 میں عراقی افواج نے ایرانی سرزمین پر حملہ کر دیا، اس جنگ میں تقریباً دس لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔

جنگ میں عراقی فوج نے سوویت یونین سے جاسوس طیارے خریدے اور وہاں سے حاصل کردہ سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے ایرانی افواج کی پوزیشنز کی نشاندہی اور ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھی، جس سے انھیں میدانِ جنگ میں واضح برتری حاصل ہوئی۔

ایران کو ایک ایسی جنگ لڑنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کی اشد ضرورت تھی جو اس کے وجود کے لیے خطرہ بن چکی تھی۔ چنانچہ ایرانی قیادت نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ دوسروں سے ٹیکنالوجی حاصل کرنے کے بجائے خود ایجاد کرے اور خود تیار کرے۔

ایرانیوں نے سنہ 1981 کے اوائل ہی میں ان چھوٹے آلات پر کام شروع کر دیا۔ ان پر کیمروں کی تنصیب کا خیال زیرِ غور آیا۔ اس منصوبے کی بنیاد اصفہان یونیورسٹی میں رکھی گئی، جہاں طلبہ اور انجینیئرز نے مل کر اس خیال کو عملی شکل دینے کا کام شروع کیا۔

انھوں نے ان آلات کے ڈیزائن، تیاری، آزمائش اور بہتری کے مراحل طے کیے، اور بالآخر ابتدائی نمونے تیار کر کے پاسداران انقلاب کے عسکری حکام کے سامنے پیش کیے۔

برسوں کی کوششوں، بار بار کی ناکامیوں اور مسلسل جدوجہد کے بعد، اصفہان کی اسی یونیورسٹی ورکشاپ میں یہ نوجوان ڈیزائن تیار کرتے اور پھر خوزستان کے کھلے میدانوں میں ان کے تجربات کرتے رہے۔

جب پہلی مرتبہ انھوں نے اپنا ابتدائی نمونہ فوجی حکام کے سامنے پیش کیا تو بعض افسران نے اس خیال کا مذاق اڑایا۔

یہ ماڈل کسی بچے کے کھلونے سے زیادہ معلوم نہیں ہوتا تھا، جو نہایت غیر معمولی اشیا سے تیار کیا گیا تھا۔ سنہ 1983 میں، محاذِ جنگ سے تقریباً چالیس کلومیٹر دور، وہی ’کھلونا‘ طیارہ پہلی بار عراقی فوجی پوزیشنز کے اوپر پرواز کرنے میں کامیاب ہوا۔

یہ طیارہ واضح اور قابلِ استعمال تصاویر کے ساتھ واپس لوٹا، جن میں عراقی فوجی تنصیبات صاف نظر آ رہی تھیں۔ اس کامیابی کے بعد تھنڈر بٹالین کے قیام اور ایک باقاعدہ ڈرون پروگرام کے آغاز کے احکامات جاری کیے گئے۔

یہ پروگرام اصفہان یونیورسٹی کی ایک طالب علمانہ ورکشاپ سے نکل کر پاسداران انقلاب کے فوجی کمانڈروں کے زیرِ نگرانی آ گیا۔ طیاروں کی تیاری کے لیے درکار پرزہ جات حاصل کرنے کی خاطر، پروگرام کے منتظمین کو ملک پر عائد پابندیوں کو توڑتے ہوئے عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنا پڑی۔

پاسداران انقلاب نے دبئی میں کمپنیوں کا ایک نیٹ ورک قائم کیا اور سنگاپور میں موجود ثالثوں کے ذریعے درجنوں ممالک سے پرزہ جات علیحدہ علیحدہ حالت میں خریدے۔ یہ پرزے بعد ازاں اصفہان منتقل کیے گئے، یہی وجہ ہے کہ یوکرین میں مار گرائے گئے شاہد 136 ڈرونز میں امریکی ساختہ چِپس پائی گئی۔ 

سنہ 1988 میں ایران اُن اولین ممالک میں شامل تھا جنھوں نے ڈرونزمیدانِ جنگ میں استعمال کیے اگرچہ آج امریکہ، ترکی اور اسرائیل اس صنعت میں نمایاں نام سمجھے جاتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایران اس میدان میں ابتدائی پیش روؤں میں شامل تھا۔

سنہ 1988 میں ایرانی ڈرونز ڈیزائن کے اعتبار سے نہایت ابتدائی نوعیت کے تھے، جن کی زیادہ سے زیادہ پرواز کی حد 50 کلومیٹر سے زیادہ نہیں تھی۔ مگر 2026 تک ایران ایسے جدید ڈرونز تیار کر چکا تھا جو ایرانی سرزمین سے پرواز کر کے کئی ممالک کی فضائی حدود عبور کرتے ہوئے اسرائیل میں اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

ایرانی ماہرین نے لبنان میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھی۔ حزب اللہ میں موجود ان کے اتحادیوں نے اسرائیلی ڈرونز کے بارے میں درست اور تفصیلی معلومات اکٹھی کرنے میں ان کی مدد کی اور یہ فیصلہ کیا کہ سرائیلی ڈرونز اتنے زیادہ پیچیدہ نہیں ہیں کہ تہران اور اصفہان کی جامعات میں موجود ایرانی ماہرین اور انجینیئرز ان کی نقل تیار نہ کر سکیں۔

عسکری تجزیہ کاروں نے متعدد رپورٹس میں نشاندہی کی ہے کہ ابتدائی ایرانی ڈرون ماڈلز میں اسرائیلی ڈرونز سے کافی مماثلت پائی جاتی ہے۔ ان کے مطابق ایرانی انجینیئرز نے ان خصوصیات کے لیے اسرائیلی ڈیزائنز سے تحریک حاصل کی۔

سنہ 1970 کی دہائی سے یہ تصور عام رہا ہے کہ جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی ہتھیار ہی سب سے زیادہ قیمتی اور مؤثر ہوتے ہیں۔

 ایک گائیڈڈ میزائل، جو ایک ہزار کلومیٹر کے فاصلے سے درستگی کے ساتھ ہدف کو نشانہ بنائے، سو ایسے ہتھیاروں سے کہیں زیادہ بہتر ہے جو گائیڈّڈ نہ ہو۔

ایرانیوں نے اس میں ایک نیا تصور شامل کیا: اگر ایک ڈرون تیار کرنے پر تقریباً 20 ہزار ڈالر لاگت آتی ہے، تو وہ  کئی کہنا مہنے 20 لاکھ ڈالر مالیت کے کروز میزائل کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر 100 ڈرونز ایک ساتھ بھیجے جائیں، تو مخالف کو انھیں مار گرانے کے لیے کم از کم 100 کروز میزائل استعمال کرنا پڑیں گے اور ممکن ہے اس سے بھی زیادہ اور یوں دشمن کو بڑا مالی بوجھ پڑے گا۔

ڈرونز کی ایک اور اہم برتری یہ ہے کہ انھیں ریڈار کے ذریعے شناخت کرنا مشکل ہوتا ہے، کیونکہ وہ کم رفتار سے اور نچلی پرواز کی سطح پر پرواز کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ جب ڈرونز کو ایک ہی وقت میں بڑی تعداد میں روانہ کیا جائے تو وہ دفاعی نظام پر حد سے زیادہ دباؤ ڈال دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں بعض اوقات یہ نظام تمام ڈرونز کو روکنے میں ناکام ہو جاتا ہے۔

یہی لاگت کا فرق دراصل ڈرون جنگ میں فاتح اور مفتوح کا تعین کرتا ہے۔

حالیہ جنگ نے بھی یہ ثابت کر دیا ہے کہ مہنگا ہتھیار ہمیشہ جیت کی ضمانت نہیں ہوتا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں