امریکا۔ایران معاہدے پر اسرائیلی اپوزیشن نے نیتن یاہو کو ناکام قرار دے دیا

فہرستِ مضامین

تل ابیب: امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے مجوزہ معاہدے پر اسرائیل میں سیاسی ردعمل سامنے آنا شروع ہو گیا ہے، جہاں اپوزیشن رہنماؤں نے اس پیش رفت کو اسرائیل کی قومی سلامتی اور حالیہ فوجی کامیابیوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔

اسرائیل کی مرکزی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کے سربراہ یائر گولان نے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سمجھوتے نے اسرائیل کی برسوں کی عسکری اور سفارتی کوششوں کو ایک لمحے میں ضائع کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں یائر گولان کا کہنا تھا کہ ایک ہی دستخط کے ذریعے وہ تمام بڑی فوجی کامیابیاں مٹا دی گئی ہیں جو اسرائیلی فضائیہ کے پائلٹس کی جرات اور فوجیوں کی قربانیوں کی بدولت حاصل ہوئی تھیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس تمام عمل کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو عملی طور پر منظر سے غائب رہے اور اہم فیصلوں پر ان کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیا۔

گولان نے کہا کہ نیتن یاہو کمزور، تنہا، سیاسی طور پر الگ تھلگ اور بے اختیار نظر آئے، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے فیصلوں نے خطے کی صورتحال کو ایک نئی سمت دے دی ہے۔

اپوزیشن رہنما نے معاہدے کو “کئی برسوں کی ناکام پالیسیوں کا منطقی انجام” قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو اپنی سیاسی مدت ایسے وقت میں ختم کر رہے ہیں جب اسرائیل کے دشمن پہلے سے زیادہ مضبوط جبکہ اسرائیل نسبتاً کمزور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

ان کے مطابق اسرائیل نے حالیہ مہینوں میں جو عسکری برتری اور دفاعی بازداریت قائم کی تھی، وہ اب خطرے میں پڑ گئی ہے۔ گولان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوجیوں کی قربانیوں سے حاصل ہونے والی دفاعی طاقت اور دشمنوں کے خلاف پیدا ہونے والا خوف آہستہ آہستہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ جنگ بندی اور مفاہمتی معاہدے نے اسرائیل کے اندر نئی سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک جانب حکومت اس معاہدے پر محتاط ردعمل دے رہی ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتیں اسے نیتن یاہو حکومت کی سفارتی ناکامی قرار دے رہی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال بلکہ اسرائیل کی داخلی سیاست پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں، جہاں پہلے ہی حکومت کو سکیورٹی، جنگی حکمت عملی اور خارجہ پالیسی کے معاملات پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔

یاد رہے کہ امریکا اور ایران نے پاکستان اور قطر کی ثالثی میں جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کیا ہے، جس پر رواں ہفتے جنیوا میں باضابطہ دستخط متوقع ہیں۔ اس پیش رفت کے بعد خطے میں طاقت کے توازن، اسرائیل کی سکیورٹی حکمت عملی اور ایران کے مستقبل کے کردار پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں