امریکا اور ایران جنگ بندی پر متفق، 100 روزہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے معاہدہ جمعے کو جنیوا میں متوقع

فہرستِ مضامین

واشنگٹن/تہران: امریکی صدر Donald Trump نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور تنازع کے خاتمے کے لیے ایک اہم معاہدے پر آئندہ جمعہ کو دستخط کیے جائیں گے، جبکہ ایران نے بھی دشمنی کے خاتمے اور فوجی کارروائیوں کی معطلی کی تصدیق کر دی ہے۔

پاکستان اور قطر کی ثالثی میں طے پانے والے اس مجوزہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت 100 روز سے جاری جنگی صورتحال کا خاتمہ کیا جائے گا۔ معاہدے پر 19 جون کو سوئٹزرلینڈ کے شہر Geneva میں باضابطہ دستخط متوقع ہیں۔

ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ طے پانے والے اتفاقِ رائے کے مطابق آج رات سے تمام محاذوں پر جنگ اور فوجی کارروائیاں مستقل طور پر روک دی جائیں گی۔ بیان میں لبنان کو بھی شامل کیا گیا ہے، جہاں گزشتہ کئی ماہ سے شدید کشیدگی اور حملوں کا سلسلہ جاری تھا۔

ایران نے مزید کہا کہ اس معاہدے کے تحت اس کی بندرگاہوں پر عائد امریکی بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کر دی جائے گی، جبکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بھی معمول پر آ جائے گی۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو چکا ہے اور اس سے پورے خطے میں امن اور استحکام کی نئی راہیں کھلیں گی۔

ٹرمپ کے مطابق آبنائے ہرمز کو عالمی بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولنے کی منظوری دے دی گئی ہے اور امریکا اپنی بحری پابندیاں بھی فوری طور پر ختم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اب دنیا بھر کے تجارتی جہاز بلا رکاوٹ سفر کر سکیں گے اور تیل کی ترسیل معمول کے مطابق بحال ہو جائے گی۔

امریکی نائب صدر JD Vance نے معاہدے کو مشرقِ وسطیٰ کے لیے “نئے دور” کا آغاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کی سفارت کاری اور خلیجی ممالک کے تعاون نے اس پیش رفت کو ممکن بنایا ہے۔

ادھر ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور Kazem Gharibabadi نے بھی عندیہ دیا کہ جنگی کارروائیوں کے خاتمے کا باضابطہ اعلان جلد سامنے آئے گا۔ ان کے مطابق حتمی معاہدے کے لیے آئندہ 60 روز کے دوران مذاکرات جاری رہیں گے، تاہم اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ امریکا اپنی ابتدائی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے یا نہیں۔

رپورٹس کے مطابق مجوزہ معاہدے میں 14 نکات شامل ہیں، جن میں تمام محاذوں پر مستقل جنگ بندی، ایران کے گرد امریکی فوجی موجودگی میں کمی، آبنائے ہرمز کی بحالی، تیل کی برآمدات پر عائد بعض پابندیوں کی معطلی اور ایران کے منجمد اثاثوں کی مرحلہ وار واپسی شامل ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے تقریباً 24 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی رہائی بھی مذاکراتی عمل کا حصہ ہے، جبکہ ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے اتحادی گروپوں سے متعلق معاملات کو موجودہ مذاکراتی ایجنڈے سے خارج رکھا گیا ہے۔

معاہدے کی خبر سب سے پہلے پاکستان کے وزیراعظم Shehbaz Sharif نے سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے مستقل خاتمے پر اتفاق ہو گیا ہے اور رواں ہفتے متعدد تکنیکی ملاقاتیں ہوں گی جو حتمی دستخطی تقریب کی راہ ہموار کریں گی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا، ایران اور قطر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے Saudi Arabia اور Türkiye کی قیادت کی سفارتی کوششوں کو بھی سراہا۔

ادھر Qatar کی وزارت خارجہ نے اس مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں پائیدار امن، عالمی تجارت اور اقتصادی استحکام کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

اگر طے شدہ شیڈول کے مطابق پیش رفت جاری رہی تو امریکا اور ایران کے درمیان یہ معاہدہ 19 جون کو جنیوا میں باضابطہ طور پر دستخط کے مرحلے میں داخل ہو جائے گا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان حتمی اور جامع معاہدے کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں