ایران امریکا معاہدہ: اسرائیل نے خود کو فریق ماننے سے انکار کر دیا

فہرستِ مضامین

اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیرِ قومی سلامتی ایتامار بن گویر نے ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل اس معاہدے کا پابند نہیں ہوگا۔

اپنے بیان میں بن گویر نے کہا کہ امریکی قیادت میں ہونے والا کوئی بھی معاہدہ، جس میں اسرائیل کو فریق نہیں بنایا گیا، ان کے لیے قابلِ قبول نہیں اور یہ معاہدہ خطے میں اسرائیلی سلامتی کی ضمانت فراہم نہیں کرتا۔

انہوں نے واضح کیا کہ “ہم اس معاہدے میں پارٹی نہیں ہیں، اس لیے یہ ہمیں کسی بھی صورت پابند نہیں کرتا۔” ان کے مطابق ایسے کسی بھی سمجھوتے سے اسرائیل کے سیکیورٹی خدشات ختم نہیں ہوتے۔

اسرائیلی وزیر نے مزید سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی سیکیورٹی کے لیے بنیادی شرط حزب اللہ کا مکمل خاتمہ ہے، اور اس سے کم کسی بھی صورتحال کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔

بن گویر نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل فوج کے زیرِ قبضہ کسی بھی علاقے کے ایک انچ سے بھی دستبردار نہیں ہوگا، اور قومی سلامتی کے معاملات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

ان کے اس بیان کو خطے میں جاری سفارتی کوششوں اور ممکنہ ایران امریکا مفاہمت کے تناظر میں ایک سخت سیاسی ردعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں