امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے بعد جہاں عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا جا رہا ہے، وہیں انڈیا کے اندر اپوزیشن جماعتوں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے مودی حکومت کی سفارت کاری پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
کانگریس کے رہنما راشد علوی نے کہا کہ “جو پاکستان نے کر دکھایا، وہ انڈیا کو کرنا چاہیے تھا”، جبکہ دیگر تجزیہ کاروں نے بھی اس پیش رفت کو پاکستان کے لیے سفارتی کامیابی قرار دیا۔
دوسری جانب انڈین وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں جنگ بندی کا خیر مقدم تو کیا، مگر پاکستان کا نام لینے یا اس کے کردار کا ذکر کرنے سے گریز کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ “ہم جنگ بندی کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اس سے مغربی ایشیا میں دیرپا امن قائم ہوگا۔”

وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ جاری جنگ نے عالمی سطح پر تیل، توانائی کی فراہمی اور تجارتی نظام کو شدید متاثر کیا ہے، اور یہ امید ظاہر کی کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت بحال ہو جائے گی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات اور پاکستان کی ثالثی کے حوالے سے بھی انڈیا نے خاموشی اختیار کیے رکھی۔
سابق خارجہ سکریٹری نوپما مینن راؤ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کا کردار اگرچہ روایتی ثالثی نہیں، لیکن اس نے ایک ایسے رابطہ چینل کے طور پر کام کیا جس کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ممکن ہوا اور جنگ بندی کی راہ ہموار ہوئی۔ ان کے مطابق اس کردار کو کم نہیں سمجھا جا سکتا۔
ادھر تجزیہ کار اشوک سوئن نے اس جنگ بندی کو ایران کی کامیابی اور پاکستان کے لیے سفارتی اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کو امریکہ، ایران اور چین کا اعتماد حاصل ہے۔
صحافی انجنا شنکر نے بھی اس مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے عروج کے دوران پاکستان نے سفارتی راستہ بند نہیں ہونے دیا اور آخری لمحات میں جنگ بندی ممکن بنائی، جو ایک بڑی کامیابی ہے۔
اس کے برعکس انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ انڈیا کسی “دلال” یا “بروکر” کا کردار ادا نہیں کرنا چاہتا۔ پاکستان نے اس بیان کو جھنجھلاہٹ قرار دیا تھا۔
سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر بحث جاری ہے، جہاں کچھ صارفین نے طنزیہ انداز میں کہا کہ انڈیا کے توانائی مسائل حل کرنے میں بھی پاکستان کا کردار سامنے آیا ہے۔
اسی دوران خبر رساں اداروں کے مطابق سات سال بعد ایران سے تیل لے کر ایک ٹینکر اس ہفتے انڈیا پہنچ رہا ہے، جو خطے میں بدلتی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق انڈیا کو اس صورتحال میں واضح مؤقف اپنانا چاہیے اور سفارتی سطح پر زیادہ متحرک کردار ادا کرنا چاہیے، کیونکہ موجودہ حالات “خاموش رہنے کا نہیں بلکہ سمجھداری سے بولنے کا وقت” ہیں۔